اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

بجلی کا بے دریغ استعمال کریں اورگھر بیٹھے پیسے حاصل کریں،شاندار آفر متعارف

datetime 29  اکتوبر‬‮  2017 |

برلن،نئی دہلی (این این آئی ) ونڈ پاور ٹربائنوں کی زیادہ پیداوار کھپانے کیلئے ہفتہ وار چھٹی کے دوران جرمن صارفین کو بجلی کے زیادہ استعمال پر پیسے ملیں گے ۔جرمن میڈیا کے مطابق جرمنی میں اتوار کو ہوا سے بجلی کی ریکار ڈ پیداوار حاصل ہو گی، جو طلب سے بہت زیادہ ہے ۔طلب اور پیداوارمیں توازن پیدا کرنے کیلئے ضروری ہے کہ صارفین کو بجلی زیادہ استعمال کرنے کی طرف راغب کیا جائے ، وگرنہ کمپنیوں کو پیداوار

میں کمی کیلئے پاور سٹیشن بند کرنا پڑیں گے ۔ ادھربھارت میں تجزیہ کاروں نے کہاہے کہ بھارتی حکومت کو چاہیے کہ محفوظ اور سستے داموں شاہراہوں کی تعمیر کے لیے ملکی ٹیکنالوجی کے ذریعے ضائع شدہ پلاسٹک کا استعمال کرے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق سرکاری اعداد وشمارمیں بتایاگیاکہ گزشتہ برس بھارتی سڑکوں پر پانچ لاکھ حادثات ہوئے جن میں ڈیڑھ لاکھ اموات ریکارڈ کی گئیں۔ ان ہلاکتوں میں سے دس فیصد کا سبب وہ پگڈنڈیاں اور گڑھے تھے جو بھارتی سڑکوں پر یا ان کے آس پاس اکثر پائے جاتے ہیں۔حال ہی میں بھارتی حکومت نے آئندہ پانچ سالوں میں چھ اعشاریہ نو ٹریلین ڈالر کی سرمایہ کاری سے 83,677 کلومیٹر طویل سڑکوں کی تعمیر کے منصوبے کی منظوری دی ہے۔تجزیہ کاروں نے ملکی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ آئندہ سڑکوں کی تعمیر استعمال شدہ پلاسٹک کی ٹیکنالوجی سے کریں جو پہلے سے آزمودہ ہے۔ بھارت کے مادورئی شہر کے ایک کالج میں کیمسٹری کے پروفیسر راجا گوپالن وسودیون نے ایک ٹیکنالوجی متعارف کرائی ہے۔ اس نئی تکنیک کے ذریعے باریک پلاسٹک کو تارکول کی طرح کے ایک گرم ٹھوس مادے میں شامل کیا جاتا ہے اور پھر اس آمیزے کو پتھروں پر انڈیل دیا جاتا ہے۔

پروفیسر وسودیون کے مطابق یہ پلاسٹک ٹافیوں کے ریپر سے لے کر پلاسٹک کے استعمال شدہ تھیلوں تک کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ بھارتی پروفیسر نے یہ ٹیکنالوجی سن 2002 میں تیار کی تھی اور ریاستی حکام سے بات کرنے سے پہلے انہوں نے اس تکنیک سے اپنے کالج میں ہی ایک سڑک بھی تعمیر کی تھی۔ پوفیسر وسودیون کا کہنا ہے کہ اْن کی بنائی ہوئی سڑک اب تک مضبوط ہے اور اس میں گڑھے بھی نہیں پڑے۔ اْن کا ایک اسٹوڈنٹ یہ ٹیکنالوجی اپنے ملک بھوٹان بھی لے گیا ہے۔سن 2015 میں بھارتی حکومت نے زیادہ تر شاہراہوں کی تعمیر میں پلاسٹک کے استعمال کو لازمی قرار دے دیا تھا۔ وسودیون کے مطابق ان کی ریاست تامل ناڈو سمیت اب تک قریب گیارہ بھارتی ریاستیں شاہراہوں کی تعمیر میں یہ ٹیکنالوجی استعمال کر چکی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…