منگل‬‮ ، 26 مئی‬‮‬‮ 2026 

لیڈی ڈیاناکومرنے کے بعدسکون نہ آیا یادیکھنے والے کادما غ چل گیا؟لیڈی ڈیانا خوابوں میں آکر کیا مانگتی ہیں، سابق ملازم کا حیرت انگیزدعویٰ

datetime 9  اکتوبر‬‮  2017 |

لندن(آئی این پی)دلفریب مسکراہٹ اور خوبصورتی کے سبب لاکھوں دلوں کی دھڑکن بننے والی برطانوی شہزادی لیڈی ڈیانا کے سابق ملازم نے دعویٰ کیا ہے کہ لیڈی ڈیانا خوابوں میں آتی ہیں، مدد مانگتی ہیں، پوچھتی ہیں بتا کیوں نہیں دیتے میں زندہ ہوں۔برطانوی میڈیا کے مطابق پرنسز ڈیانا کے سابق ملازم پال بوریل کا کہنا ہے کہ یہ خوفزدہ کرنے والی بات نہیں مگر ہے ایسا ہی کہ ڈیانا ان کے خوابوں میں آتی ہیں۔

میں چاہتا ہوں کہ وہ مجھ سے کہیں کہ پال ٹھیک ہے تم نے جو زندگی اپنے لیے منتخب کی ہے اس کے مطابق اسے بسرکرو لیکن ایسا کہنے کے لیے وہ زندہ نہیں ہیں ۔پال نے بتایا کہ کسی کو اس طرح کے واقعات پر اختیار نہیں ہوتا۔ میں اکثر یہ سوچ کو سونے لگتا ہوں کہ شاید آج ایسا نہ ہو لیکن وہ پھر میرے خواب میں آجاتی ہیں۔ وہ مجھ سے کہتی ہیں کہ تم دنیا کو بتا کیوں نہیں دیتے کہ میں زندہ ہوں؟لاکھوں دلوں کی دھڑکن بننے والی برطانوی شہزادی لیڈی ڈیانا کی موت بھی متنازع رہی اور ان کی موت آج بھی ایک معمہ بنی ہوئی ہے۔شہرت کی بلندیوں کو چھونے والی شہزادی لیڈی ڈیانا ایک ہمدرد دل بھی رکھتی تھیں، یکم جولائی 1961 کو انگلینڈ کے ایک عام گھرانے میں آنکھ کھولنے والی ڈیانا 29 اگست 1981 کو برطانوی شہزادے چارلس کی دلہن بنیں۔ پرنس ولیم اور ہیری کی پیدائش کے بعد شہزادہ چارلس اور ڈیانا کے تعلقات میں سرد مہری آگئی تھی، جس کے باعث اگست 1996 میں دونوں نے علیحدگی اختیارکر لی۔ لیڈی ڈیانا 1995 اور 1997 میں عمران خان کی دعوت پر پاکستان بھی آئیں اورشوکت خانم اسپتال کادورہ کیا۔شہزادہ چارلس سے علیحدگی اختیار کرنے کے بعد لیڈی ڈیانا کی زندگی میں کئی اتار چڑھا آئے اور پھر وہ 31 اگست 1997 کو فرانس کے دارالحکومت پیرس میں ٹریفک حادثے میں زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…