منگل‬‮ ، 26 مئی‬‮‬‮ 2026 

دنیا کی سب سے مختصر جنگ جو 38منٹ میں ختم ہو گئی! اسلامی ملک کیخلاف یہ جنگ کون جیتا تھا؟

datetime 9  اکتوبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(خصوصی رپورٹ)دنیا کی تاریخ میں ایسی جنگوں کا احوال بھی ملتا ہے جو بیسیوں سال جاری رہیں جبکہ کچھ ماہ یا کچھ دنوں پر محیط جنگوں کا ذکر تو عام ملتا ہے۔ تاریخ میں ایک ایسی جنگ بھی ہوئی جو کچھ سال، ماہ یا دن نہیں بلکہ کچھ منٹ ہی جاری رہی اور چونکہ یہ دو ممالک کے درمیان ہوئی اس لئے اسے جنگوں کی عالمی تاریخ میں شامل کیا گیا ہے۔یہ جنگ اگست 1896 میں سلطنت

برطانیہ اور مشرقی افریقہ کے مسلمان ملک سلطنت زنجبار کے درمیان ہوئی۔ سلطنت زنجبار عملاً تو آزاد تھی مگر ایک تاریخی معاہدے کے تحت یہ سلطنت برطانیہ کے تحت تھی اور اس کا حکمران بننے والے کو تاج برطانیہ سے رسمی اجازت لینا پڑتی تھی۔ جب 25 اگست 1896ءکو سلطان حماد بن ثوینی کی وفات ہوئی تو سلطان خالد بن برگاش برطانوی اجازت کے بغیر نئے حکمران بن گئے۔ برطانوی حکام حمود بن محمد کو اپنا وفادار سمجھتے تھے اور انہیں حکمران بنانا چاہتے تھے۔تاج برطانیہ کی طرف سے سلطان خالد کو حکم دیا گیا کہ وہ اپنی فوج کو ہتھیار چھوڑنے کا حکم دے اور اس کیلئے 27 اگست دن 9 بجے کا الٹی میٹم دیا گیا۔ سلطان کے محل کی حفاظت کیلئے2800 زنجباری فوجی جمع تھے جبکہ دوسری طرف برطانوی بحریہ نے تین کروز جہاز، دو گن بوٹ اور 150 بحری سپاہی زنجبار کے ساحل پر لا کھڑے کئے۔ ان کے پاس 900 زنجباری فوجی بھی تھے۔ جب سلطان کے فوجیوں نے ہتھیار نہ چھوڑے تو 9 بج کر 2 منٹ پر برطانوی بحریہ نے محل پر بمباری شروع کر دی۔ 9 بج کر 40 منٹ پر سلطان خالد کا محل شعلوں میں گھرا تھا، ان کے 500 فوجی ہلاک ہو چکے تھے اور جنگ کا اختتام ہو چکا تھا۔ بعد ازاں سلطان خالد جرمن سفارتخانے کی مدد سے جرمن ایسٹ افریقہ میں پناہ گزین ہو گئے جبکہ برطانیہ نے فوری طور پر سلطان حمود کو زنجبار کا اقتدار سونپ دیا۔ اس جنگ میں برطانیہ کا صرف ایک سپاہی زخمی ہوا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…