اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

آنکھ کیوں پھڑکتی ہے؟ جانئے دلچسپ وجہ

datetime 19  ستمبر‬‮  2017 |

نیو یارک(نیوز ڈیسک)ہم اکثر اوقات بیشتر افراد کو آنکھ پھڑکنے کی شکایت کرتے ہوئے دیکھتے اور سنتے رہتے ہیں۔آنکھ کے پھڑکنے سے متعلق اگرچہ مختلف لوگوں کی رائے مختلف ہوتی ہے۔تاہم ماہرین صحت کے مطابق آنکھ پھڑکنا کوئی خطرے والی بات نہیں ہے۔برآن یونیورسٹی کے الپرٹ میڈیکل سکول میں شعبہ عینیات کے اسسٹنٹ پروفیسر فلپ ریزوٹو ایم ڈی کا کہنا ہے کہ جب آنکھ پھڑکتی ہے تو عام طور پرکسی قسم کی درد یا شدیدتکلیف کا سبب نہیں بنتی،تاہم خصوصاً کام کے وقت پریشانی کا باعث بنتی ہے۔

انکا کہنا ہے کہ ا آنکھ کے پھڑکنے سے آنکھ کو کسی قسم ے نقصان کا کوئی ڈر نہیں ہوتا۔پروفیسر فلپ کا مزید کہنا ہے کہ آنکھ عام طور پر کشیدگی،تھکاوٹ ،پپوٹے یا کارنیا کی جلن ،کیفین اور شراب کی ذیادہ مقدار استعما ل کرنے کی وجہ سے پھڑکتی ہے۔انکا یہ بھی کہنا ہے کی آنکھ پھڑکنے کا عمل تقریباً ایک ہفتے تک جاری رہنے کے بعد خود بخود ٹھیک ہو جا تا ہے۔ڈاکٹر ریزوٹو کا کہنا ہے کہ اگر کوئی مریض ضرورت سے ذیادہ پریشانی میں مبتلا ہو تو وہ اس کی آنکھ کا معائنہ کرنے کے ساتھ آنکھ کی صفائی کرتے ہیں اور کبھی کبھار آنکھ میں ڈالنے کے لئے قطرے وغیرہ بھی دے دیتے ہیں۔علاوہ ازیں انھیں چائے ،کافی اور شراب کم مقدار میں استعمال کرنے اور ذیادہ سونے کا مشورہ دیتے ہیں۔تاہم اگر کبھی مریض کی دونوں آنکھیں غیر معمولی طور ایک ساتھ پھڑکنے لگیں اور شدت کے باعث بند ہوجائیں تو فوراً ماہر امراض چشم سے رابطہ قائم کریں۔ماہرین امراض چشم کا کہنا ہے کہ عام طور پر ایسی صورتحال سے 40سے60کی عمر کے افراد دوچار ہوتے ہیں ،تاہم یہ عام بیماری نہیں ہے۔انکا یہ بھی کہنا ہے کہ ہر سال تقریباً2000 افراد اس مرض میں مبتلا ہوتے لیکن ابھی تک اس کا کوئی علاج دریافت نہیںکیا جاسکا۔تاہم بوٹوکس انجیکشنز کے استعمال سے آنکھ کی پھڑپھڑاہٹ کو ختم کیا جا سکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…