اتوار‬‮ ، 05 اپریل‬‮ 2026 

’’بھارت میں خوفناک بھاری بھرکم جانور کی شکل میں اللہ کاعذاب نازل ‘‘

datetime 10  اگست‬‮  2017 |

نئی دہلی(این این آئی)بھارت کے مشرقی حصے میں اس ہاتھی کو مارنے کی تیاری کی جا رہی ہے جو گذشتہ کئی مہینوں کے دوران 15 لوگوں کو ہلاک کر چکا ہے۔بھارتی ٹی وی کے مطابق عہدے داروں نے کہاکہ ہماری اولین کوشش ہاتھی کو پکڑ نا ہے۔ اگر وہ کسی بھی طرح ہمارے کنٹرول میں نہ آیا تو پھر آخری چارہ کار کے طور پر اسے ہلاک کر دیا جائے گا۔

گزشتہ روز بھی ہاتھی نے ایک اور شخص کو اپنے پاؤں تلے کچل کر ہلاک کر دیا۔ جس کے بعد ریاست جھاڑکھنڈ میں جنگلی حیات کی نگرانی کرنے والے عہدے دار اور شکاری اکھٹے ہوئے اور اسے گھیرے میں لے کر پکڑ نے یا مارنے کے پہلوؤں پر صلاح مشورہ کیا۔ریاست جھاڑ کھنڈ کے محکمہ جنگلات اور جنگلی حیات کے سربراہ ایل آر سنگھ نے بتایا کہ بدمست ہاتھی نے ریاست جھاڑکھنڈ کے حدود میں داخل ہونے سے پہلے ریاست بہار میں 4 لوگوں کو ہلاک کیا تھا۔وہ مارچ میں جھاڑکھنڈ میں داخل ہوا جس کے بعد سے وہ 11 افراد کو اپنے پاؤں کے نیچے کچل کر مار چکا ہے۔سنگھ نے بتایا کہ بستیوں اور دیہاتوں میں رہنے والے ہاتھی سے خوف زدہ ہیں خاص طور پر پحاریا قبیلے کے لوگ جو اس پہاڑی علاقے کے قریب رہتے ہیں جہاں ان دنوں ہاتھی کو دیکھا جا رہا ہے۔ اس مسئلے کے حل کے لیے لازمی طور پر کچھ کرنے کے ضرورت ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم نے ماہرین اور شکاریوں پر مشتمل ایک ٹیم بنائی ہے۔ ہم اس مسئلے کی مختلف پہلوؤں پر سوچ بچار کر رہے ہیں۔ ایک حل تو یہ ہے کہ اسے گولی مار دی جائے ۔ لیکن یہ قدم آخری چارہ کار کے طور پر اٹھایا جائے گا۔ ہم ایک دو دن میں کسی فیصلے پر پہنچ جائیں گے۔نقصان پہنچانے والے ہاتھی، عموماً ایسے ہاتھی ہوتے ہیں جو اپنے گروہ سے بچھڑ جاتے ہیں اور وہ مٹر گشت کرتے ہوئے آبادیوں میں گھس کر لوگوں کو ہلاک کرنے لگتے ہیں۔جنگلات اور جنگلی حیات کے سربراہ نے سنگھ نے خبررساں ادارے کو بتایا کہ ریاست جھاڑکھنڈ میں ہر سال لگ بھگ 60 افراد کو ہاتھی اپنے پاؤں تلے روند کر مار دیتے ہیں۔

ان کا کہتا تھا کہ یہ تعداد بھارت میں جانوروں کا نشانہ بن کر ہلاک ہونے والوں کے مقابلے میں بہت معمولی ہے۔ بھارت میں پچھلے تین سال کے دوران ایک اندازے کے مطابق 11 سو افراد ہاتھیوں، شیر اور چیتوں کا نشانہ بن مارے جا چکے ہیں۔ماحولیات کی وزارت کا کہنا تھا کہ بھارت میں ہر روز ایک شخص کمیاب جنگلی درندوں کا نشانہ بن جاتا ہے۔ جب کہ ہلاک ہونے والوں کی اکثریت ہاتھیوں کے پاؤں تلے کچلی جاتی ہے۔ایل آر سنگھ نے بتایا کہ ہاتھیوں اور انسانوں کے درمیان ایک دوسرے کو ہلاک کرنے کے رجحان میں اس وجہ سے بھی اضافہ ہو رہا ہے کیونکہ لوگوں نے اپنی بستیاں بسانے کے لیے زیادہ تر جنگل صاف کر دیے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مشہد میں دو دن (آخری حصہ)


ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…