ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

مکھیوں سے نجات پانے کا آسان طریقہ

datetime 27  مئی‬‮  2016 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک ) مکھیوں کی وجہ سے ہم نہ صرف بہت زیادہ تنگ ہوتے ہیں بلکہ یہ متعدد بیماریوں کے پھیلاﺅکا بھی باعث ہیں کیوں کہ ایک مکھی اپنے چھوٹے سے جسم میں 10لاکھ کے قریب بیکٹیریا رکھتی ہے۔ ان بیکٹیریا کو انسانی جسم میں منتقل کرنے کے لئے انہیں کاٹنے کی ضرورت نہیں پڑتی بلکہ صرف کھلی جگہ پر پڑے کھانے پر بیٹھ جانے سے یہ بیکٹیریا انسانی جسم میں منتقل ہو جاتے ہیں اور اب گرمیوں کی آمد آمد ہے لہٰذا اپنے گھر کو مکھیوں سے ضرور نجات دلائیں۔ ان مکھیوں سے نجات کے کچھ گھریلو ٹوٹکے بتاتے ہیں۔
مکھی مار کاغذ
مارکیٹ میں مکھی مار کاغذ جسے مکھی کا فیتہ بھی کہا جاتا ہے باآسانی دستیاب ہوتا ہے، یہ کاغذ ایک خاص قسم کی خوشبو یا زہر سے رنگا ہوتا ہے جس کے جھانسے میں آکر مکھیاں خود بخود مرتی چلی جاتی ہیںلیکن زہر سے آلودہ یہ کاغذ انسانوں کو بھی نقصان پہنچا سکتا ہے۔مکھی مارکاغذ کی بجائے آدھا کپ مکئی کا سیرپ، ایک کپ کا چوتھائی حصہ چینی، خاکی کاغذ، قینچی اور دھاگا لیں۔ خاکی کاغذ کو دو دو انچ کے ٹکڑوں میں کاٹ لیں، پھر ان ٹکڑوںکو مکئی کے سیرپ اور چینی میں ڈبو کر کسی بھی جگہ دھاگے سے باندھ کر لٹکا دیں۔
پانی کے پلاسٹک بیگ
ایک پلاسٹ بیگ لے کر اس میں پانی بھر دیں اور گھر کے مرکزی دورازے پر لٹکا دیں تو مکھیاں گھر میں داخل نہیں ہو سکیں گی جس کی دووجوہات ہیں، ایک تو مکھیوں کو اپنی آنکھوںکے مخصوص زاویہ کی وجہ سے پانی سے بھرا پلاسٹک بیگ نظر نہیں آتا اور دوسرا اگر نظر آ بھی جائے تو مکھیاں اسے جالا سمجھتی ہیں۔
سیب کا سرکہ
یہ ٹوٹکا خصوصی طور پر فروٹ فلائی کے خاتمہ کے لئے ہے لہٰذا سیب کے سرکہ کو گرم کرکے اس کا گھر میں چھڑکا? کر دیں، کیونکہ سیب کی خوشبو کے باعث مکھی خود کو روک نہیں پائے گی اور سرکہ گرم ہونے کے باعث اس کو مار دے گا۔
لونگ
بلاشبہ لونگ کی خوشبو انسانوں کو نہایت بھلی لگتی ہے لیکن مکھیوں کے لئے ایسا نہیں ہے۔ مکھیاں لونگ کی خوشبو کے سامنے زیادہ دیر نہیں ٹک سکتیں، لونگ کو لیموں کے ساتھ ملا کر چھڑکانا زیادہ سود مند ہے۔
ان کے علاوہ تلسی، زیتون کا تیل، کافور، یوکلپٹس کے چھڑکا? اور شہد و دودھ کے ذریعے جھانسہ دے کر مکھیوں سے نجات حاصل کی جا سکتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…