ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

روا ں سال کا پہلا سورج گرہن انڈونیشیا اور وسطی بحرالکاہل میں دیکھا گیا

datetime 9  مارچ‬‮  2016 |

جکارتہ(نیوز ڈیسک)سورج کو اس سال کا پہلا مکمل گرہن انڈونیشیا کے تین صوبوں سماترا،بورنیو اور سلاویسی میں دیکھا گیا۔ مکمل سورج گرہن ہوتے ہی یہ علاقے اندھیرے میں ڈوب گئے۔سورج گرہن کا آغاز پاکستانی وقت کے مطابق صبح چار بج کر 19منٹ پر ہوا۔انڈونیشیا کے تین صوبوں سماترا، سلاویسی اور بورنیو میں سورج کو مکمل گہن کا نظارہ دیکھاگیا۔ مکمل گرہن کا دورانیہ چار سے پانچ منٹ تھا، اس دوران انڈونیشیا کے مختلف حصوں میں اندھیرا چھا گیا۔سنگاپور، کوالالمپور، بنکاک، منیلا، تائی پے آسٹریلیا، ایشیا کے جنوب مغربی علاقوں، چین، ہوائی اور الاسکا میں جزوی سورج گرہن دیکھا گیا۔سورج گرہن کا اختتام پاکستانی وقت کے مطابق 9بج کر 35منٹ پر ہوا۔ماہرین کے مطابق 33سال میں پہلی بار یہ مکمل سورج گرہن تھا ۔اگلی بار مکمل سورج گرہن کا منظر 33سال بعد دیکھنے کو ملے گا۔ ماہرین کے مطابق سورج اور زمین کے درمیان چاند کے آجانے سے سورج کی روشی اور شعائیں زمین تک نہیں پہنچ پاتیں،اس عمل کو سورج گر ہن کہتے ہیں۔ ادھر حکام کا کہنا ہے کہ نڈونیشیا اور بحرالکاہل کے علاقوں میں لاکھوں افراد نے مکمل سورج گرہن کا تجربہ کیا اور اس خطے کے بعض علاقے مکمل تاریکی میں چلے گئے۔جب مکمل سورج گرہن ہوا تو چاند نے سورج سے آنے والی تمام براہ راست شعاو¿ں کو گھیر لیا تھا اور دن کو رات میں بدل دیا۔انڈونیشیا کے بیلیٹنگ صوبے میں لوگوں کا ایک ہجوم ساحل پر اس سحر انگیز تجربے سے دو چار ہونے کے لیے یکجا ہوا تھا۔۔معمول کے مطابق ماہرین فلکیات نے ننگی آنکھوں یا دوربین سے براہ راست سورج کی جانب دیکھنے سے منع کیا تھا۔ ماہرین نے پیشہ ورانہ سولر فلٹر یا سورج گرہن کے دیکھنے والے شیشے کی تجویز پیش کی تھی۔گذشتہ برس مکمل سورج گرہن شمالی نصف کرے میں 20 مارچ کو دیکھا گیا تھا۔انڈونیشیا کا بیلیٹنگ مکمل سورج گرہن دیکھنے کے لیے بہترین جگہ قرار دی گئی تھی۔اس سورج گرہن کو دیکھنے کے لیے وہاں آسٹریلیا اور یورپ سے لوگ یکجا ہوئے تھے۔جب سورج گرہن شروع ہوا تو لوگوں نے فرط جذبات میں چیخنا شروع کردیا لیکن پھر ان پر ہیبت چھا گئی اور سب خاموش ہو گئے۔ بعض افراد تصویریں لے رہے تھے جبکہ بعض صرف حیرت انگیز منظر کو دیکھ رہے تھے۔ اور جب یہ ختم ہوگیا تو لوگوں نے خاموشی کے ساتھ تالیاں بجائیں۔ جبکہ پورے ملک میں لوگ مساجد، مندروں اور چرچز میں دعا اور عبادات میں مشغول رہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…