ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

پانی میں تیرتے ہاتھ سے بنے لکڑی کے خطرناک ، نازک پل

datetime 21  اکتوبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)بھارت میں دریائے گنگا پر ہاتھوں سے بنے لکڑی کے تقریباً 18 نازک لیکن خطرناک پل بنائے گئے ہیں جو پانی پر بھی تیرتے ہیں۔ روزانہ اوسطاً دس لاکھ افراد ان پلوں پراپنا 10 منٹ کا سفر دریائے گنگا کو عبور کرنے کیلئے صرف کرتے ہیں۔ لوگوں کی اکثریت پلوں کی ایک جانب رہائش پذیرہے جبکہ پلوں کی دوسری جانب کام کی غرض سے آتے جاتے ہیں۔ یہ نازک اور خطرناک پل ان لوگوں کی بقا کیلئے بہت اہمیت کے حامل ہیں۔ ہر پل کی لمبائی تقریباً آدھا میل ہے، ان پلوں کا جال اتر پردیش کی شمالی ریاست الہٰ آباد میںبنائے گئے ہیں۔ ان پلوں کی تیاری کےلئے بڑی تعداد میں افرادی قوت درکار تھی اور ہر ایک پل کیلئے تقریباً 1 ہزار 5 سو 37 دھاتی سلنڈرز کی ضرورت تھی۔ ان پلوں نے دریائے گنگا کے کنارے بسنے والے افراد کی زندگی آسان بنادی ہے۔ بھارتی شہر ’چنائی‘ سے تعلق رکھنے والے فوٹو گرافر ”راما کرشنادھناس کرن“ نے ان پلوں سے گزرنے والے افراد کی خوبصورت تصاویر اتاریں جو روزانہ ان پلوں پر سفر کرتے ہیں۔ ان پلوں پر سفر کرنے والوں کی تعداد اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ جن لکڑی کے تختوں پر وہ چلتے ہیں، انہیں دیکھنا تقریباً ناممکن ہے۔ پلوں کی قطاریں دلچسپ اور عجیب منظر پیش کرتی ہیں کہ جہاں تک نظر دوڑائیں آنکھوں کو پل ہی پل نظر آتے ہیں۔ یہ پل تختوں کے ذریعے دریا کے کنارے سے بندھے ہوئے ہیں اور ان پلوں کے نیچے خالی، دھاتی ٹینک ہیں جو ان پلوں کو اٹھائے رکھتے ہیں اور ان کا وزن برداشت کرتے ہیں جبکہ پلوں کے اوپری حصے رسیوں سے بندھے ہوئے ہیں۔ اگرچہ ہر پل 10 ٹن وزن برداشت کرنے کے قابل ہے تاہم حفاظتی نقطے کے پیش نظر پلوں کو پار کرنے کیلئے 5 ٹن وزن کی اجازت دی گئی ہے۔ بھارتی فوٹو گرافر کا کہنا ہے کہ جب دھاتی سلینڈرز کو دریا کے دونوں کناروں تک لٹادیا جاتا ہے تو پھر ان پر لکٹری کے شہتیر ترچھے انداز میں رکھے جاتے ہیں جو تخت کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔ان تختوں میں جو جگہیں رہ جاتی ہیں ان میں مٹی، گارا اور گھاس وغیرہ بھردی جاتی ہے اور ایسا اس لئے کیا جاتا ہے تاکہ ٹرک اور ایمبولینسیں بھی ان پلوں سے آسانی سے گزرسکیں، لیکن یہ پل زیادہ تر پیدل چلنے والے ہی استعمال کرتے ہیں اور رش کے اوقات میں یہ پل یک طرفہ یعنی صرف جانے یا آنے کیلئے استعمال ہوتے ہیں۔یک طرفہ پل کے استعمال کا اصول اس وقت اپنایا گیا جب 2012 میں ان پلوں پر بھگدڑ کا واقعہ پیش آیا جس کے نتیجے میں کئی لوگ دریا میں گرگئے، واقعے میں 18 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔حادثہ بہار کی مشرقی ریاست پٹنہ میں ہندوﺅں کی مذہبی تقریب میں شرکت کے بعد اپنے گھروں کو واپس آنے والے افراد کے رش کے باعث پیش آیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…