ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

کارڈ گھرپر بھول جانےکی عادت سے بیزارنوجوان نے مائیکروچِپ ہاتھ کا حصہ بنالی

datetime 30  جون‬‮  2015 |

ماسکو(نیوزڈیسک )ماسکو کا نوجوان انجینئر ولاد زیتسیوف دفتر جانے کے لیے گھر سے روانہ ہوا۔ بس اسٹاپ اس کے گھر سے بیس منٹ کی پیدل مسافت پر ہے۔بس اسٹاپ پرپہنچ کراس نے پرس نکالنے کے لیے جیب میں ہاتھ ڈالا اور پھر جھلا کررہ گیا۔ جلد بازی میں آج پھر وہ پرس گھر پر بھول آیا تھا۔ تروئیکا کارڈ اسی میں تھا۔ روسی دارالحکومت میں 2013 میں پبلک ٹرانسپورٹ کے لیے نیا ٹکٹ سسٹم متعارف کروایا گیا تھا، جس کے تحت مسافروں کو ہر بار نقد رقم کی ادائیگی کے عوض ٹکٹ خریدنے کی ضرورت نہیں رہی تھی۔ حکومت نے اے ٹی ایم کی طرز کے کارڈ جاری کردیے تھے جنھیں انڈرگراﺅنڈ پبلک ٹرانسپورٹ اسٹیشن کے داخلی دروازے پر نصب مشین کے آگے کردیا جاتا ہے۔ مشین کارڈ میں لگی ہوئی مائیکرو چِپ کو اسکین کرتی ہے اور یوں مسافر کو اسٹیشن میں داخل ہونے کی اجازت مل جاتی ہے۔ اس کارڈ کو تروئیکا کارڈ کہا جاتا ہے۔ولاد زیتسیوف اکثر و بیشتر تروئیکا کارڈ گھر پر بھول آتا تھا۔ اس بھول کا خمیازہ اسے دفتر سے تاخیر ہوجانے کی صورت میں بھگتنا پڑا تھا۔ بالآخر اسے انوکھا خیال آیا۔ اس نے سوچا کیوں نہ روز روز کے جھنجھٹ سے نجات پانے کے لیے کچھ ایسا کیا جائے کہ کارڈ ہمیشہ اس کے ساتھ رہے۔ اس کا ایک ہی طریقہ ولاد کی سمجھ میں آیا کہ کارڈ میں لگی مائیکروچِپ کو نکال کر اسے جسم کے ایسے حصے میں نصب کروالیا جائے جہاں سے یہ بہ آسانی اسکین ہوسکے۔ولاد نے سرجن سے رابطہ کیا اور اس سے درخواست کی کہ تروئیکا کارڈ اس کے ہاتھ کا حصہ بنادیا جائے۔ سرجن نے ولاد کے بائیں ہاتھ کی پشت کو سن کیا۔ پھر ایک جانب تین انچ لمبا کٹ لگایا اور کارڈ میں جڑی ہوئی چپ نکال کر کھال کے نیچے رکھا اور اوپر سے ٹانکے لگادیے۔ یہ انوکھی ترکیب کارگر ثابت ہوئی، اور ولاد اسے تاخیر سے دفتر پہنچنے سے نجات مل گئی۔
ولاد کا کہنا ہے کہ آپریشن کے دوران اور بعد میں بھی اسے کسی طرح کی پیچیدگی کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ تین انچ طویل کٹ کے نشان کی وجہ سے ہاتھ تو بدنما ہوگیا مگر اسے ایک بڑی پریشانی سے نجات مل گئی۔ اب وہ انڈرگرانڈ ٹرانسپورٹ اسٹیشن کے دروازے پر پہنچ کر اسکینر کے سامنے محض اپنا ہاتھ لہرا دیتا ہے۔ اسکینر اس کی کلائی میں نصب چِپ کو پڑھ لیتا ہے اور اسے اندر جانے کی اجازت مل جاتی ہے۔ تاہم کہیں کہیں اسے پریشانی کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ ولاد کے مطابق ہر اسٹیشن پر لگے ہوئے اسکینر اتنے طاقت ور نہیں ہیں کہ کلائی میں چھپی چِپ کو بہ آسانی پڑھ سکیں۔ اس صورت میں اسے پریشانی اٹھانی پڑتی ہے۔ وہ ہاتھ کو مختلف زاویوں سے حرکت دے کر چِپ کو پڑھوانے کی کوشش کرتا ہے۔ کبھی اس کی یہ کوشش کام یاب ہوجاتی ہے اور کبھی نہیں۔ ناکامی کی صورت میں اسے ٹیکسی کرنی پڑتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…