روم (نیوزڈیسک )شراوڈ آف ٹیورن‘ کو عام دیدار کے لیے 2010 میں آخری دفعہ پیش کیا گیا تھا’شراوڈ آف ٹیورن‘ کے نام سے پہچانا جانے والا وہ کپڑا جسے کچھ عیسائی حضرت عیسٰی ؑکا کفن مانتے ہیں، پانچ برس کے وقفے کے بعد نمائش کے لیے پیش کر دیا گیا ہے۔چار اعشاریہ چار میٹر طویل یہ کفن شمالی اٹلی کے شہر ٹیورن میں ہی 24 جون تک سینٹ جان دا بیپٹسٹ کے گرجاگھر میں زیرِ نمائش رہے گا۔اس عرصے کے دوران روزانہ 12 گھنٹے تک عوام کو اس کی زیارت کی اجازت ہوگی۔اس کپڑے کو دیکھنے کے لیے کوئی ٹکٹ نہیں لگایا گیا تاہم اس کے لیے پہلے سے بکنگ کروانا ضروری ہے اور اب تک دس لاکھ افراد یہ عمل سرانجام دے چکے ہیں۔رومن کیتھولک عیسائیوں کے مذہبی پیشوا پوپ فرانسس بھی اس کفن کی زیارت کرنے والوں میں شامل ہوں گے اور وہ اس کے لیے 21 جون کو ٹیورن پہنچیں گے۔آخری مرتبہ ’شراوڈ آف ٹیورن‘ کو عام دیدار کے لیے 2010 میں پیش کیا گیا تھا اور اس وقت 25 لاکھ افراد نے اس کی زیارت کی تھی اس کپڑے پر ایک ایسے باریش شخص کی ہلکی سی شبیہ ہے جس کے ہاتھوں اور پیروں پر خون کے دھبے ہیں۔یہ کپڑا چودہ فٹ لمبا اور ساڑھے تین فٹ چوڑا ہے اور اسے ایک بلٹ پروف اور ماحولیاتی تغیر سے بچانے والے ڈبے میں رکھا گیا ہے۔سنہ 1988 میں اس کپڑے کے تجزیے کے بعد اسے سنہ 1260 سے 1390 کے درمیان کے زمانے کا قرار دیا گیا تھا تاہم اس تجزیے کو قبولیتِ عام کی سند حاصل نہیں ہوسکی تھی
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
تنخواہوں کے حوالے سے سرکاری ملازمین کیلئے ایک اور خوشخبری
-
پاکستان کا المیہ
-
ایرانی ریال کے نئے نرخ سامنے آ گئے
-
وزیراعظم شہباز شریف کے آموں کے تحفے پر ہنگری کے وزیراعظم کا دلچسپ پیغام
-
امارات کے نائب صدر 77 ویں سالگرہ منانے اسکاٹ لینڈ میں اپنی دلکش اراضی میں پہنچ گئے
-
علی خامنہ ای کے جنازے پر اسرار نقاب پوش کون تھا؟ شناخت ظاہر
-
امریکی ویزا کے خواہشمند پاکستانیوں کے لئے بڑا اعلان
-
بھارت و افغانستان کا ڈی این اے ایک جیسا ہے، افغان وزیر کو کہنا مہنگا پڑ گیا
-
عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں نمایاں کمی
-
اداکارہ مومنہ اقبال ہراسانی کیس، ثاقب چدھڑ بارے عدالت کا اہم فیصلہ آگیا
-
عمران خان اور جمائمہ کا تاریخی لندن والا گھر فروخت کے لیے پیش، قیمت جان کر حیران رہ جائیں گے
-
پاکستانیوں کے لیے خوشخبری! سعودی عرب نے نیا پیکیج ویزا متعارف کرا دیا
-
تولدے گیبریماریم کو پی آئی اے کی قیادت سونپنے کا فیصلہ
-
وفاقی کابینہ میں ردوبدل کا امکان، نئے نام زیر غور



















































