جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

ہاتھی کتنے فاصلے سے ایک دوسرے سے گفتگو کرسکتے ہیں؟

datetime 27  فروری‬‮  2015 |

برمنگھم (نیوز ڈیسک) ہاتھیوں کو قدرت نے اس قدر ذہانت سے نوازا ہے کہ جسے دیکھ کر انسان دنگ رہ جاتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ کچھ ماہرین حیوانیات کا یہ خیال بھی ہے کہ ہاتھیوں میں انسانوں کی طرح شعور کی طاقت بھی پائی جاتی ہے۔

ہاتھی اپنی طاقتور یادداشت کی وجہ سے 200سے زیادہ مختلف ہاتھیوں کو ایسے ہی پہچان سکتے ہیں جیسے کہ ہم مختلف انسانی چہروںکو پہچانتے ہیں۔ جب ہاتھی ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو مخصوص آوازیں نکال کر اپنا تعارف بھی کرواتے ہیں اور اگر کوئی دوست یا جان پہچان والا ہاتھی ملے تو اسی کے ساتھ میل جول کرتے ہیں ورنہ دور سے ہی راستہ بدل لیتے ہیں۔ ہاتھی گروہوں کی صورت میں رہتے ہیں اور گروہ کی قیادت سب سے زیادہ عمر والی مادہ کرتی ہے۔ راہنما مادہ ہر معاملے میں گروہ کی قیادت کرتی ہے اور خصوصاً اپنے تجربے اور عمر کی بنا پر اور طاقتور یادداشت کو استعمال کرتے ہوئے دور دراز مقامات پر بھی ایسی جگہوں پر پہنچ جاتی ہے جہاں ماضی میں سبزہ اور پانی دستیاب رہا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض دفعہ یہ اپنے گروہ کو ایسی جگہ لے جاتی ہے جہاں کبھی ان کی چراگاہیں تھیں مگر بعد میں انسانوں نے اپنے لئے فصلیں اُگالیں اور اس بنا پر انسان اور ہاتھیوں میں جنگ بھی دیکھنے میں آتی ہے۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…