ہفتہ‬‮ ، 07 ‬‮نومبر‬‮ 2026 

جوڑوں کے تکلیف دہ امراض سے محفوظ رکھنے میں مددگار بہترین غذائی عادت

datetime 6  ‬‮نومبر‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈ یسک ) جوڑوں کے درد کی شکایت عمر بڑھنے کے ساتھ عام ہوتی جاتی ہے اور بالخصوص 40 سے 50 سال کی عمر کے افراد اس مسئلے سے زیادہ متاثر ہوسکتے ہیں۔

تاہم ماہرین کے مطابق روزمرہ خوراک میں چکنائی کی مناسب اقسام شامل کرکے جوڑوں کے بعض امراض کا خطرہ کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔عمر میں اضافے کے ساتھ ہڈیوں اور جوڑوں کی صحت متاثر ہونے لگتی ہے، جس کے نتیجے میں درد اور سوزش جیسے مسائل جنم لیتے ہیں۔ جوڑوں میں درد کی ایک وجہ خون میں یورک ایسڈ کی مقدار بڑھنا بھی ہے۔ عام حالات میں یورک ایسڈ خون میں حل ہوکر گردوں کے ذریعے پیشاب کی صورت میں جسم سے خارج ہوجاتا ہے، لیکن جب اس کی پیداوار ضرورت سے زیادہ ہونے لگے یا گردے اسے مناسب طریقے سے خارج نہ کرسکیں تو یہ جوڑوں میں کرسٹل کی شکل اختیار کرکے تکلیف کا سبب بن سکتا ہے۔جوڑوں کے امراض کی مختلف اقسام پائی جاتی ہیں اور ان میں سوزش یا ورم کا اہم کردار ہوتا ہے۔ ایک نئی تحقیق میں نشاندہی کی گئی ہے کہ کھانے میں استعمال ہونے والی چکنائی کی نوعیت بھی ان بیماریوں کے خطرے پر اثرانداز ہوسکتی ہے۔جرنل فرنٹیئرز میں شائع ہونے والی تحقیق کے دوران 93 ہزار سے زائد درمیانی عمر کے ایسے افراد کے طبی اور غذائی ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا جو مطالعے کے آغاز میں اوسٹیو ارتھرائٹس جیسے تکلیف دہ مرض کا شکار نہیں تھے۔

شرکا سے ان کی خوراک، خصوصاً چکنائی کے استعمال سے متعلق معلومات حاصل کی گئیں۔تحقیق میں خاص طور پر پولی ان سیچوریٹڈ فیٹس یعنی کثیر غیر سیر شدہ چکنائی اور سیچوریٹڈ فیٹس یعنی سیر شدہ چکنائی کے اثرات کا موازنہ کیا گیا، کیونکہ یہ دونوں اقسام جسم میں سوزش کے عمل پر مختلف انداز میں اثر ڈالتی ہیں۔نتائج کے مطابق وہ افراد جو اپنی روزانہ کیلوریز کا بڑا حصہ کثیر غیر سیر شدہ چکنائی سے حاصل کرتے تھے، ان میں اوسٹیو ارتھرائٹس کی شرح نسبتاً کم دیکھی گئی۔ اس کے برعکس سیر شدہ چکنائی کا زیادہ استعمال کرنے والوں میں اس مرض کے امکانات اور کیسز کی شرح زیادہ ریکارڈ کی گئی۔محققین کے مطابق تحقیق سے ان نتائج کی حتمی وجہ سامنے نہیں آسکی، تاہم ان کا خیال ہے کہ صحت بخش چکنائی جسم میں ورم کی شدت کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے، جس سے جوڑوں کے امراض کا خطرہ بھی گھٹ سکتا ہے۔

پولی ان سیچوریٹڈ فیٹس، خصوصاً اومیگا تھری فیٹی ایسڈز، جسم میں ایسے مرکبات پیدا کرنے میں مدد دیتے ہیں جو سوزش کو قابو میں رکھنے کا کام کرتے ہیں۔اومیگا تھری اور دیگر کثیر غیر سیر شدہ چکنائی حاصل کرنے کے لیے مچھلی، اخروٹ، السی کے بیج اور زیتون یا سورج مکھی کا تیل غذا کا حصہ بنایا جاسکتا ہے۔محققین نے واضح کیا کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ عام گھی کا استعمال مکمل طور پر ترک کردیا جائے، بلکہ بہتر ہے کہ اس کی مقدار محدود رکھی جائے اور خوراک میں صحت بخش چکنائی کو ترجیح دی جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



قید بھی نعمت ہوتی ہے


  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

سٹوڈنٹ لسٹ

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

Mind The Gape

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

مہاراجہ ہری سنگھ کے جواہرات

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

مرنے کے علاوہ

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

درگزر کیا کریں

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

بارہ منٹ کا کھیل

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

زندگی کا ذائقہ

یونان کے کسی بادشاہ نے وزیر سے ناراض ہو کر اسے…

عمران خان بھٹو(آخری حصہ)

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

عمران خان بھٹو(دوسرا حصہ)

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

 عمران خان بھٹو

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…