کراچی(این این آئی)رات گئے کھانا کھانے کی عادت جگر کے امراض کا خطرہ بڑھا سکتی ہے۔
امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ رات گئے کھانے کے عادی افراد میں جگر کے امراض کا خطرہ دیگر افراد کے مقابلے میں 20 سے 30 فیصد زیادہ ہوسکتا ہے۔اوریگن یونیورسٹی اور میساچوسٹس جنرل ہاسپٹل کے محققین نے تقریباً 2 لاکھ افراد کے غذائی معمولات اور طرز زندگی سے متعلق اعداد و شمار کا تجزیہ کیا۔ یہ معلومات تین بڑی تحقیقی رپورٹس سے حاصل کی گئی تھیں، جن میں شرکا سے پوچھا گیا تھا کہ آیا وہ رات کے کھانے کے بعد یا سونے سے پہلے کچھ کھاتے ہیں۔محققین کے مطابق کھانے کا وقت جگر کی صحت پر اثر انداز ہوسکتا ہے، کیونکہ جگر جسم کی اندرونی حیاتیاتی گھڑی کے مطابق کام کرتا ہے۔ یہ گھڑی نیند، تحولِ غذا اور جسم کے دیگر افعال کو منظم کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
ان کے مطابق جگر غذائی عادات اور نیند کے اوقات میں تبدیلیوں کے حوالے سے حساس ہوسکتا ہے۔تاہم محققین نے واضح کیا کہ ان نتائج کو حتمی ثبوت نہیں سمجھنا چاہیے، کیونکہ تحقیق میں لوگوں کی جانب سے خود فراہم کردہ معلومات پر انحصار کیا گیا۔ رات گئے کھانے اور جگر پر چربی جمع ہونے کے مرض کے درمیان تعلق کی نوعیت جاننے کے لیے مزید تحقیق درکار ہے۔تحقیق کے مطابق سونے سے چند گھنٹے پہلے کھانے سے گریز کرنا تحولِ غذا اور جگر کی صحت بہتر رکھنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔تحقیق کے نتائج طبی جریدے ”کلینیکل گیسٹروانٹرولوجی اینڈ ہیپاٹولوجی” میں شائع ہوئے۔جگر پر چربی جمع ہونے کا مرض دنیا بھر میں عام ہے۔ اس کیفیت میں جگر میں چربی کی مقدار بڑھ جاتی ہے اور مرض کی شدت بڑھنے پر جگر کے افعال متاثر ہوسکتے ہیں۔ اس کا تعلق ذیابیطس کی قسم دوم اور موٹاپے سمیت مختلف میٹابولک مسائل سے بھی پایا جاتا ہے۔



















































