اسلام آباد (نیوز ڈیسک)ڈپریشن ایک عام ذہنی کیفیت ہے جو انسان کی ذہنی صحت کے ساتھ ساتھ مجموعی جسمانی صحت اور روزمرہ زندگی کو بھی متاثر کرسکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق بعض معمولات اور طرزِ زندگی کی عادات بھی ڈپریشن کی علامات یا اس کے خطرے میں اضافے سے منسلک ہوسکتی ہیں۔ ان میں غیر متوازن خوراک، نیند کا خراب معمول، تنہائی اور جسمانی سرگرمی کی کمی شامل ہیں۔غذائی عادات میں الٹرا پراسیس کھانوں کا زیادہ استعمال بھی قابلِ توجہ ہے۔ ان اشیا میں فاسٹ فوڈ، ڈبل روٹی، کیک، ٹافیاں، مٹھائیاں، نمکین اسنیکس، ناشتے کے سیریلز، چکن یا فش نگٹس، انسٹنٹ نوڈلز اور میٹھے مشروبات شامل ہیں۔ مختلف تحقیقی رپورٹس میں زیادہ پراسیس شدہ غذاؤں کے استعمال اور ڈپریشن کے خطرے کے درمیان تعلق کی نشاندہی کی گئی ہے۔اس کے برعکس متوازن اور غذائیت سے بھرپور خوراک مجموعی صحت کے لیے فائدہ مند سمجھی جاتی ہے۔ ایک تحقیق، جو امریکن جرنل آف کلینیکل نیوٹریشن میں شائع ہوئی، میں بھی بہتر غذائی معیار اور ڈپریشن کے کم خطرے کے درمیان تعلق رپورٹ کیا گیا۔تنہائی بھی ذہنی صحت پر اثر انداز ہوسکتی ہے۔ کچھ وقت اکیلے گزارنا معمول کا حصہ ہوسکتا ہے، تاہم مسلسل سماجی رابطوں سے دور رہنے کی صورت میں ڈپریشن کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
ماہرین دوستوں اور اہل خانہ کے ساتھ صحت مند تعلقات برقرار رکھنے کو ذہنی صحت کے لیے اہم قرار دیتے ہیں۔موجودہ دور میں اسمارٹ فون، ٹی وی، لیپ ٹاپ اور دیگر ڈیجیٹل آلات کا استعمال بھی روزمرہ زندگی کا اہم حصہ بن چکا ہے۔ ایک سے زیادہ اسکرینز پر طویل وقت گزارنے کے حوالے سے ہونے والی تحقیقات میں ڈپریشن کی علامات اور سماجی بے چینی کے ساتھ تعلق کی نشاندہی کی گئی ہے۔ماہرین کے مطابق اردگرد کے لوگوں کا رویہ بھی ذہنی کیفیت پر اثر ڈال سکتا ہے۔ مسلسل مایوسی یا منفی سوچ رکھنے والے افراد کے ساتھ زیادہ وقت گزارنے سے انسان پر بھی منفی جذبات غالب آسکتے ہیں، جبکہ مثبت اور معاون سماجی ماحول ذہنی صحت کے لیے بہتر ثابت ہوسکتا ہے۔
نیند کے معمول کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ بعض تحقیقات میں دیر رات تک جاگنے اور منفی خیالات کے درمیان تعلق سامنے آیا ہے، جبکہ مناسب اور باقاعدہ نیند ذہنی صحت برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔اسی طرح مسلسل کئی گھنٹے بیٹھے رہنا اور جسمانی سرگرمی سے دور رہنا بھی مجموعی صحت کے لیے نقصان دہ ہوسکتا ہے۔ جسمانی سرگرمی کے دوران دماغ میں ایسے کیمیکلز خارج ہوتے ہیں جو موڈ کو بہتر بنانے میں مدد دیتے ہیں، اس لیے باقاعدہ ورزش اور متحرک رہنا ذہنی صحت کے لیے مفید سمجھا جاتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کسی شخص میں ڈپریشن کی علامات مسلسل موجود رہیں یا روزمرہ معمولات متاثر ہونے لگیں تو صرف طرزِ زندگی میں تبدیلی پر انحصار کرنے کے بجائے ماہرِ صحت یا ذہنی صحت کے ماہر سے مشورہ کرنا چاہیے۔



















































