جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

مسلسل موبائل اسکرولنگ دماغ کو کیسے متاثر کرتی ہے؟ ماہرین نے خبردار کر دیا

datetime 10  جولائی  2026 |

کراچی (این این آئی)موبائل فون اور سوشل میڈیا کا بڑھتا ہوا استعمال جدید زندگی کا لازمی حصہ بن چکا ہے،

تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مسلسل موبائل اسکرولنگ نہ صرف وقت ضائع کرتی ہے بلکہ دماغی کارکردگی، توجہ، یادداشت اور ذہنی صحت پر بھی منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ماہرین کے مطابق اگر کسی شخص نے صرف چند منٹ کے لیے موبائل استعمال کرنے کا ارادہ کیا ہو لیکن دیکھتے ہی دیکھتے ایک گھنٹہ گزر جائے تو یہ محض اتفاق نہیں بلکہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے مخصوص ڈیزائن اور انسانی نفسیات کا نتیجہ ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بیشتر سوشل میڈیا ایپس اس انداز میں تیار کی جاتی ہیں کہ صارف زیادہ سے زیادہ وقت اسکرین پر گزارے۔ نئی پوسٹس، مختصر ویڈیوز اور مسلسل بدلتے مواد کی فراہمی صارف کو بار بار اسکرول کرنے پر آمادہ رکھتی ہے، جس سے یہ عادت وقت کے ساتھ مضبوط ہوتی چلی جاتی ہے۔ماہرین نے کہا کہ اس عمل میں دماغ میں موجود **ڈوپامائن** نامی کیمیائی مادہ اہم کردار ادا کرتا ہے، جو خوشی، دلچسپی اور نئے انعام کی توقع سے وابستہ ہوتا ہے۔ ہر نئی پوسٹ یا ویڈیو کے ساتھ صارف کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ آگے کیا دیکھنے کو ملے گا، یہی غیر یقینی کیفیت دماغ کو مزید اسکرول کرنے پر مائل رکھتی ہے۔ اسی وجہ سے بعض ماہرین اس نظام کو جوئے کی سلاٹ مشین سے تشبیہ دیتے ہیں،

جہاں ہر نئی کوشش ممکنہ انعام کی امید پیدا کرتی ہے۔تحقیقی جائزوں کے مطابق سوشل میڈیا فیڈ کا کوئی واضح اختتام نہیں ہوتا، جس کے باعث صارف کو قدرتی طور پر رکنے یا وقفہ لینے کا احساس نہیں ہوتا۔ اس کے برعکس کتاب یا ٹی وی پروگرام ختم ہونے پر انسان خود بخود اگلے مرحلے کی طرف بڑھ جاتا ہے۔ یہی مسلسل اسکرولنگ طویل مدت میں توجہ مرکوز رکھنے کی صلاحیت، یادداشت اور گہرائی سے مطالعہ یا کسی ایک کام پر مستقل توجہ دینے کی صلاحیت کو متاثر کر سکتی ہے۔ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ضرورت سے زیادہ اسکرولنگ ذہنی دباؤ، بے چینی، مایوسی اور جذباتی تھکن میں بھی اضافہ کر سکتی ہے۔ ان کے مطابق اکثر لوگ ذہنی دباؤ سے نجات کے لیے سوشل میڈیا کا رخ کرتے ہیں، لیکن منفی یا پریشان کن مواد دیکھنے سے ان کی ذہنی کیفیت مزید متاثر ہو سکتی ہے۔البتہ ماہرین اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ سوشل میڈیا براہِ راست دماغ کو تباہ کر دیتا ہے،

تاہم مسلسل دہرائی جانے والی عادتیں دماغ کے کام کرنے کے انداز اور رویوں پر ضرور اثرانداز ہوتی ہیں، جو وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہو سکتی ہیں۔ماہرین نے ذہنی صحت کو بہتر رکھنے کے لیے مشورہ دیا ہے کہ روزانہ اسکرین ٹائم محدود رکھا جائے، موبائل استعمال کے دوران وقفے لیے جائیں، باقاعدگی سے جسمانی ورزش کی جائے، کتابوں کے مطالعے کو معمول بنایا جائے اور اہلِ خانہ و دوستوں کے ساتھ براہِ راست سماجی سرگرمیوں میں وقت گزارا جائے، تاکہ دماغ متوازن انداز میں کام کرے اور غیر ضروری اسکرولنگ کی عادت پر قابو پایا جا سکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…