اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

لعاب دہن کے نمونوں سے ایک گھنٹے میں کووڈ کی تشخیص کرنے والی ڈیوائس تیار

datetime 16  اگست‬‮  2021 |

واشنگٹن (این این آئی )کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 کے درست ترین ٹیسٹ کے نتائج کے لیے لیبارٹری آلات اور تیکنیکی صلاحیتوں کی ضرورت ہوتی ہے، جس کے نتیجے میں کئی گھنٹے بھی لگ جاتے ہیں۔مگر امریکی محققین نے ایسی ڈیوائس تیار کی ہے

جو لعاب دہن کے نمونوں سے ایک گھنٹے کے اندر کووڈ کی تشخیص کرسکتی ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق میساچوسٹس انسٹیٹوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی)اور ہارورڈ یونیورسٹی کے انجنیئرز یہ چھوٹی سی ڈیوائس تیار کی ہے۔اس ڈیوائس پر ہونے والی تحقیق میں بتایا گیا کہ اس ڈیوائس سے بیماری کی تشخیص پی سی آر جتنی درست کی جاسکتی ہے۔محققین کے مطابق اس ڈیوائس کو کورونا وائرس میں ہونے والی مخصوص وائرل میوٹیشنز کی شناخت کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔یہ ڈیوائس ڈیلٹا یا دیگر نئی اقسام سے متاثر افراد میں بھی بیماری کی تشخیص ایک گھنٹے کے اندر کرسکتی ہے، بالخصوص ان علاقوں میں جہاں جینیاتی سیکونسنگ کے مراکز موجود نہیں۔محققین نے بتایا کہ ہم نے ثابت کیا کہ ہمارا پلیٹ فارم وائرس کی نئی اقسام کو شناخت کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے اور ہم نے ایسا بہت تیزی سے کیا۔انہوں نے کہا کہ ہم نے تحقیق میں برطانیہ، جنوبی افریقہ اور برازیل میں سامنے آنے والی کورونا کی اقسام کو ہدف بنایا تھا مگر ہم نے ڈیلٹا قسم کے لیے بھی تیزی سے مطابقت پیدا کی۔ان کا کہنا تھا کہ اس ڈیوائس کے یے کریسپر ٹیکنالوجی کا سہارا لیا گیا ہے اور اسے 15 ڈالرز میں اسمبل کیا جاسکتا ہے، تاہم بڑے پیمانے پر تیاری کی صورت میں لاگت کو نمایاں حد تک کم کیا جاسکتا ہے۔شرلوک نامی کریسپر پر مبنی ٹول کی مدد سے تیار کی گی اس ڈیوائس پر تحقیقی ٹیم کی جانب سے 2017 سے کام کیا جارہا تھا۔گزشتہ سال تحقیقی ٹیم نے کورونا وائرس کی شناخت کے لیے اس ٹیکنالوجی کو ڈھالنا شروع کیا تاکہ تشخیص کے لیے ڈیوائس تیار کی جاسکے۔اس مقصد کے لیے انہوں نے لعاب دہن کے نمونوں سے مدد لی تاکہ اس کو اتنا آسان بنایا جاسکے کہ کوئی بھی اس ڈیوائس کو استعمال کرسکے۔محققین نے انسانی لعاب دہن میں لیبارٹری میں تیار کردہ کورونا وائرس کے سیکونسز کو شامل کرکے ڈیوائس کی آزمائش شروع کی اور پھر مریضوں کے 50 نمونوں سے نتائج کا موازنہ کیا۔انہوں نے دریافت کیا کہ ڈیوائس کے نتائج پی سی آر ٹیسٹوں جتنے مستند ہیں جس کے نتائج کے یے زیادہ وقت اور زیادہ وسائل کی ضرورت ہوتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…