خاتون کے کووڈ کو چھپانے کے نتیجے میں پورا خاندان بیماری سے انتقال کرگیا

  اتوار‬‮ 7 فروری‬‮ 2021  |  0:15

کراکس (این این آئی)نئے کورونا وائرس سے ہونیوالی بیماری کووڈ 19 سے متاثر فرد بہت تیزی سے اسے آگے صحتمند افراد تک منتقل کرسکتا ہے یہی وجہ ہے کہ اس کی تشخیص پر اسے چھپانا خطرناک ثابت ہوسکتا ہے،بیماری کو چھپانے کا نتیجہ دیگر افراد کی بیماری اور موت کی شکل میں بھی نکل سکتا ہے۔ایسا ہی ایک واقعہوینزویلا میں بھی پیش آیا جہاں ایک خاتون میں کووڈ 19 کی تشخیص ہوئی، مگر اس نے اپنے خاندان سے اسے پوشیدہ رکھا جس کے نتیجے میں سب گھر والے اس بیماری کا شکار ہوکر چل بسے۔وینزویلا کے شہر تاچیرا سے تعلق


رکھنے الی 36 سالہ ویرونسا گارسیا فیونٹیزز دسمبر کے وسط میں بخار کا شکار ہوئی تھیں۔انہوں نے پی سی آر ٹیسٹ کروایا جس سے کووڈ 19 کی تشخیص ہوئی اور انہوں نے گھر میں خود کو آئسولیٹ کردیامگر اپنے شوہر اور بچوں سے کووڈ کو چھپاتے ہوئے بس یہ کہا کہ ان کا فلو بگڑ گیا ہے۔مقامی میڈیا کے مطابق ممکنہ طور پر خاتون نے اپنی بیماری کو خوف کی وجہ سے چھپایا تھا۔دسمبر کے اختتام پر ویرونسا گارسیا نے اس وقت اپنے 33 سالہ شوہر کو بتایا کہ وہ کورونا وائرس کا شکار ہیں جب وہ ایک خاندانی تقریب میں شرکت کیلئے جارہا تھا۔جنوری میں خاتون میں نمونیا کی علامت نمودار ہوئی تاہم اس وقت ان کے شوہر اور تینوں بچوں کا ٹیسٹ نیگیٹو رہا تھا۔2 ہفتے بعد خاتون کی حالت بگڑنے لگی اور انہیں ہسپتال میں داخل کرایا گیا، اس وقت باقی خاندان میں بھی کووڈ 19 کی تشخیص ہوئی تاہم اس وقت علامات ظاہر نہیں ہوئی تھیں۔کچھ دن بعد ان کے شوہر کو سنگین علامات کے باعث ہسپتال داخل کرایا گیا اور ایک ہفتے بعد اس جوڑے کا انتقال ہوگیا،ان کے تینوں بچوں کا انتقال بھی اس بیماری کےباعث جنوری کے آخر میں ہوا۔مقامی طبی حکام نے اس معاملے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے زور دیا کہ بنیادی حفاظتی تدابیر جیسے فیس ماسکس کا استعمال، ہاتھوں کو دھونا اور سماجی دوری کے نفاذ کی ضرورت ہے۔ماہرین نے بھی خبردار کیا کہ لوگوں کو زیادہ احتیاط کرنی چاہیے تاکہ وہ اس طرح کے واقعات سے بچ سکیں۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

روکا روکی کا کھیل

میں آج سے چھ سال پہلے بائی روڈ اسلام آباد سے ملتان گیا تھا‘ وہ سفر مشکل اور ناقابل برداشت تھا‘ رات لاہور رکنا پڑا‘ اگلی صبح نکلے تو ملتان پہنچنے میں سات گھنٹے لگ گئے‘ سڑک خراب تھی اور اس کی مرمت جاری تھی لہٰذا گرمی‘ پسینہ اور خواری بھگتنا پڑی‘ ہفتے کے دن چھ سال بعد ایک بار ....مزید پڑھئے‎

میں آج سے چھ سال پہلے بائی روڈ اسلام آباد سے ملتان گیا تھا‘ وہ سفر مشکل اور ناقابل برداشت تھا‘ رات لاہور رکنا پڑا‘ اگلی صبح نکلے تو ملتان پہنچنے میں سات گھنٹے لگ گئے‘ سڑک خراب تھی اور اس کی مرمت جاری تھی لہٰذا گرمی‘ پسینہ اور خواری بھگتنا پڑی‘ ہفتے کے دن چھ سال بعد ایک بار ....مزید پڑھئے‎