منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

ادارہ امراض قلب میں مبینہ کرپشن ، سب کچھ سامنے لانے والے ڈاکٹر کو ہی نوکری سے فارغ کر دیا گیا

datetime 23  ‬‮نومبر‬‮  2020 |

کراچی(این این آئی) ادارہ امراض قلب (این آئی سی وی ڈی) میں مبینہ کرپشن پر سندھ حکومت کو لکھا گیا ایک خط سامنے آ گیا ہے، جس میں چیف سیکریٹری سندھ سے درخواست کی گئی ہے کہ ادارے میں جاری کرپشن پر نوٹس لیا جائے۔ذرائع کے مطابق کراچی میں امراض قلب کے لیے قائم اہم ادارے این آئی سی وی ڈی میں مبینہ کرپشن کے سلسلے میں 5 ماہ قبل چیف سیکریٹری سندھ کو ایک

خط لکھا گیا تھا، جس میں کرپشن اور غیر قانونی بھرتیوں کی شکایت کی گئی تھی تاہم پانچ ماہ گزرنے کے باوجود ان شکایات پر ایکشن نہیں لیاگیا۔ذرائع نے بتایاکہ چیف سیکرٹری اور سیکرٹری صحت کو اس سلسلے میں متعدد خطوط لکھے جا چکے ہیں، تاہم سیکرٹری صحت نے خط لکھنے والے ڈاکٹر ہی کو نوکری سے فارغ کر دیا۔ذرائع کے مطابق نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیو ویسکولر ڈیزیز میں کرپشن سے متعلق اعلی افسران خاموش رہے۔معلوم ہوا ہے کہ چیف سیکرٹری کو خط ڈاکٹر طارق شیخ کی جانب سے لکھا گیا تھا، جس میں انہوں نے لکھا ادارے میں ڈاکٹر ندیم قمر نے کرپشن کا بازار گرم کر رکھا ہے، 27 بینک اکائونٹس کا بے دریغ استعمال کیا جا رہا ہے، اور من پسندافراد کو نوازا جا رہا ہے۔ڈاکٹر طارق شیخ نے خط میں لکھا کہ من پسند افراد کو قابلیت سے زیادہ تنخواہیں اور مراعات دی جا رہی ہیں، اعلی عہدے پر براجمان افسران رشتے داروں اور اہل خانہ کو نواز رہے ہیں، غیر قانونی طریقے سے بھرتیاں اور آئوٹ آف ٹرن پروموشنز کیے گئے، جب کہ ریٹائرڈ ملازمین کو عمر کی حد میں بھی کمی ظاہر کر کے انھیں دوبارہ لگایا جا رہا ہے۔خط میں انھوں نے لکھا کہ کئی سال سے ادارے میں آڈٹ نہیں ہوا، چیف سیکرٹری ان بے قاعدگیوں کا فوری نوٹس لیں۔تاہم این آئی سی وی ڈی میں کرپشن کے سلسلے میں لکھے گئے خطوط پر تاحال کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے، ذرائع کے مطابق این آئی سی وی ڈی میں کرپشن سے متعلق سندھ حکومت اور چیف سیکرٹری آگاہ تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…