پیر‬‮ ، 09 مارچ‬‮ 2026 

نئے کورونا وائرس کا ایک نیا چھپاہوا جین دریافت

datetime 12  ‬‮نومبر‬‮  2020 |

بیجنگ(این این آئی)سائنسدانوں نے نئے کورونا وائرس کے اندرچھپے نئے جین کو تلاش کرلیا ہے جس نے ممکنہ طور پر اس کی منفرد بائیولوجی اور وبائی خاصیت میں کردار ادا کیا۔میڈیارپورٹس کے مطابق یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔طبی جریدے جرنل ای لائف

میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ ایک ایسا وائرس جس میں مجموعی طور پر صرف 15 جینز ہیں، اس کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جاننا یا جینز کے اندر چھپے جینز کی دریافت اس سے مقابلہ کرنے پر نمایاں اثرات مرتب کرے گی۔تحقیق میں کہا گیا کہ چھپے ہوئے جینز ممکنہ طور پر ایک ایسا ہتھیار ہے جو کورونا وائرسز کو موثر طریقے سے نقول بنانے، میزبان کی مدافعت کو ختم کرنے یا خود کو منتقل کرنے کے ارتقائی مراحل سے گزرنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔محققین کا کہنا تھا کہ اس طرح کے جینز کی موجودگی اور ان کے افعال کے جاننے سے کورونا وائرس کو کنٹرول کرنے کے نئے راستے دریافت کیے جاسکتے ہیں۔تحقیقی ٹیم نے اس نئے جین کو او آر ایف 3 ڈی کا نام دیا ہے، اس سے قبل پینگولین کورونا وائرس میں بھی دریافت کیا گیا تھا۔یہ جین کووڈ 19 کے مریضوں میں مضبوط اینٹی باڈی ردعمل کی روک تھام کرسکتا ہے جبکہ یہ بھی دیکھا گیا کہ اس نئے جین کا پروٹین انسانی انفیکشن کے دوران بنتا ہے۔

محققین نے بتایا کہ ابھی ہم اس جین کے افعال یا اہمیت کے بارے میں نہیں جانتے، مگر ہم پیشگوئی کرسکتے ہیں کہ اس جین کو ٹی سیلز ردعمل کے دوران پکڑا نہیں جاسکتا۔عام طور پر جینز بظاہر ایک تحریری زبان کی طرح ہوتے ہیں جو الفاظ کی لڑی سے بنے ہوتے ہیں، جو

معلومات فراہم کرتے ہیں۔مگر اس طرح کے چھپے جینز مختلف النوع افعال کے حامل ہوتے ہیں اور ان کو دیکھنا مشکل ہوتا ہے، بیشتر سائنسی کمپیوٹر پروگرام ان کو دریافت کرنے کے لیے ڈیزائن نہیں ہوتے۔تاہم وائرسز میں اس طرح کے جین عام ہوتے ہیں، خاص طور پر آر این اے

وائرسز جن میں میوٹیشن ریٹ زیادہ ہوتا ہے، وہ اپنے جین کی تعداد کم رکھتے ہیں تاکہ زیادہ بڑی تعداد میں میوٹیشنز کی روک تھام کرسکیں۔اس کے نتیجے میں وائرسز میں ایک ایسا ڈیٹا دبانے والا نظام بنتا ہے جو چھپے ہوئے مختلف جینز کا باعث بنتا ہے۔محققین نے کہا کہ اس طرح کے

چھپے ہوئے جینز کو نظرانداز کردیناا وائرل حیاتیات کے اہم پہلوں کو نظروں سے دور کرسکتا ہے، جہاں تک جینوم کے حجم کی بات ہے تو نئے کورونا وائرس اور اس کے رشتے دار سب سے لمبے آر این اے وائرسز ہیں۔اس تحقیق کے دوران محققین نے ایک کمپیوٹر پروگرام تیار کیا جس کا مقصد اس طرح کے چھپے ہوئے جینز سے ہونے والی تبدیلیوں کے رجحان کی اسکریننگ کرنا تھا۔محققین کو توقع ہے کہ ان کے دریافت کردہ جین پر دیگر سائنسدان کام کرکے اس کے افعال اور اس کے کردار کا تعین کرسکیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اینڈ آف مسلم ورلڈ


ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…