ذیابیطس کی صورت میں کورونا کیا صورت اختیار کرتا ہے، ائیرکنڈیشن اور پنکھے کی ہوا بارے بھی ماہرین کا اہم انکشاف

  ہفتہ‬‮ 11 جولائی‬‮ 2020  |  21:29

اسلام آباد(آن لائن)معروف ماہرِ امراض پروفیسر ڈاکٹر وسیم جعفری نے کہا ہے کہ کویڈ19 ان افراد کے لیے زیادہ خطرناک ہے جو پہلے سے امراضِ قلب، پھیپڑوں کے امراض، زیابطیس، مٹاپہ، امراضِ جگر سمیت دیگر مہلک امراض میں مبتلا ہیں، یہ موجودہ وباء تیزی سے اْبھرتا ہوا مرض ہے۔ یہ بات انہوں نے جمعہ کو ’کویڈ19 کی وبا ء اور اسے متعلق صحت کے مسائل‘ کے موضوع پرکامسٹیک کے تحت منعقدہایک سیمینارسے خطاب کے دوران کہی۔ اس ویبینار میں او آئی سی رکن ممالک کے 78 صحت کے ماہرین نے آن لائن شرکت کی۔ اس ویبینار سے کامسٹیک کے کوارڈینیٹر


جنرل پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری نے بھی خطاب کیا۔ پروفیسر وسیم جعفری نے کہاکہ زیابطیس کی صورت میں کویڈ19 زیادہ مہلک ہوجاتا ہے، جوانوں کے مقابلے میں ضعیف لوگوں میں اس مرض کی شدت زیادہ ہے اور یہی صورت شرح موت سے متعلق ہے، اس مرض کی شرح اموات ایک فیصد سے تین فیصد ہے مگر اْن افراد میں یہ شرح زیادہ ہے جو دیگر امراض سے پہلے ہی متاثر ہیں۔ انہوں نے کہا یہ مرض فرد سے فرد میں زیادہ قربت کی صورت میں منتقل ہوتا ہے، جبکہ ایئر کنڈیشن اور پنکھے کی ہوا اس مرض کے پھیلاو میں معاون ثابت ہوتی ہے، انہوں نے کہا اس وباء سے متاثر ہونے کے عنوان سے ہیلتھ کئیر کے شعبے سے وابستہ افراد زیادہ خطرے میں ہیں۔ انہوں نے کہا کچھ دوائیں بشمول ریمڈیسیور مریضوں پر استعمال کی جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا جگر کے سرطان کے مریضوں کے لیے یہ مرض زیادہ مہلک ہے، اس طرح جگر کے ٹرانسپلانٹ کے مریضوں کے لیے بھی اس سے خطرہ ہے، انہوں نے کہا جگر کے مریض اس مرض کی شدت کو براداشت کرلیتے ہیں مگر گردے کے مریضوں کے لیے یہ مرض مشکلات پیدا کرتا ہے، اس مرض کے تناظر میں جسمانی صحت کے ساتھ ساتھ ذہنی صحت کی نگہداشت بھی ضروری ہے، اس عنوان سے عالمی صحت کے ادارے کی دی ہوئی ہدایات پر عمل ضروری ہے۔


موضوعات: