بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

سبزہ دماغی صحت کا محافظ بھی ہوتا ہے : نئی تحقیق

datetime 1  مارچ‬‮  2019 |

لندن (مانیٹرنگ ڈیسک) فطرت اور سبزہ ہمارے لیے کتنا اہم ہے؟ اس کا اندازہ ایک نئی تحقیق سے لگایا جاسکتا ہے کہ جو بچے سرسبز درختوں اور پودوں والے علاقوں میں پروان چڑھتے ہیں وہ بڑے ہوکر دماغی طور پر مضبوط رہتے ہیں اور انہیں دماغی و نفسیاتی عارضے نہیں ہوتے ۔ڈنمارک کی آرہس یونیورسٹی کی

سائنسداں پروفیسر کرسٹین اینگمین نے کہا ہے کہ سرسبز علاقے دماغی صحت کی حفاظت کرتے ہیں۔ اور سرسبز علاقوں کی سیر اور رہائش اور دماغی بہتری کے درمیان گہرا تعلق پایا جاتا ہے۔ خصوصاً بچوں کو یہ ماحول فراہم کیا جائے تو بلوغت پر ان دماغ توانا رہتا ہے۔پوری دنیا کی طرح پاکستان میں بھی سماجی مشکلات، آلودگی، شور اور روزمرہ زندگی کے تقاضوں سے عوام نفسیاتی طور پر ہلکان ہوتے جارہے ہیں۔ اس ضمن میں ماحول کو فطرت سےقریب کرکے سرسبزوشاداب بنایا جائے تو اس سے عوام کی دماغی صحت پر بہت اچھے اثرات مرتب ہوتےہیں۔اپنی تحقیق میں ماہرین نے 1985 سے 2013 تک سیٹلائٹ تصاویر سے کئی مقامات پر سبزے کو نوٹ کیا ہے اور لگ بھگ 9 لاکھ ایسے بچوں کی دماغی صحت کا جائزہ لیا ہے جو اس دوران سبزے کے قریب رہتے تھے یا اس سے دور رہائش پذیر تھے۔ اس کے بعد انہوں نے آبادی میں دماغی صحت کا مطالعہ کیا جس میں 16 مختلف دماغی و نفسیاتی عارضوں کا جائزہ لیا گیا۔ماہرین نے اپنی تحقیق سے نتیجہ نکالا ہے کہ جو بچے سبزے کے ساتھ وقت گزارتے ہیں ان میں جوانی یا ادھیڑ عمری میں دماغی امراض میں مبتلا ہونے کا خطرہ 55 فیصد تک کم ہوجاتا ہے ۔ اس کا موازنہ ان بچوں سے کیا گیا تھا جنہوں نے اپنا بچپن درختوں یا سبزے کے قریب نہیں گزارا تھا۔ یہ تحقیق پروسیڈنگز آف نیشنل اکیڈمی آف سائنسس میں شائع ہوئی ہے۔اس اہم تحقیق کا ایک اور پہلو یہ بھی ہے کہ اگر کوئی بچہ دس برس تک اپنا وقت سبزے، باغات یا پارک وغیرہ کے قریب گزارتا ہے تو بڑا ہونے پر اس کے دماغ پر بہت اچھے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اب یہ دورانیہ جتنا بڑھتا جائے گا اس کا اتنا ہی فائدہ ہوتا جائے گا۔اس سے قبل یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ سرسبز علاقوں میں رہنے سے دل اور بلڈ پریشر کے امراض میں بھی نمایاں کمی ہوتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…