ہفتہ‬‮ ، 07 مارچ‬‮ 2026 

بچوں میں دوڑنے کا رجحان کیسے پیدا کریں؟

datetime 2  ستمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) رننگ یا دوڑنا ہر عمر کے فرد بالخصوص بچوں کے لیے ایک بہت ہی زبردست کھیل ہے۔ دوڑنے سے بچوں کو موجود نہ صرف اضافی توانائی کو کم کرنے میں مدد ملتی ہے بلکہ ان کی یادداشت اور سیکھنے کے عمل میں بھی تیزی آتی ہے۔ یہ بہت ہی سستا کھیل ہے اور ہر انسان اس میں حصہ لے سکتا ہے۔ دوڑنا دل اور خون کی نالیوں کے لیے بھی کافی مفید ہے۔

جب بچوں کی بات آئے تو یہ خیال رکھیں کہ دوڑنے کو بورنگ نہیں بلکہ مزیدار بنانا ہے۔ آئیے ہم آپ کو چند تجاویز دیتے ہیں جس کی مدد سے آپ دوڑنے کو بچوں کے لیے ایک مزیدار کھیل بنا سکتے ہیں۔بچوں کے لیے مزیدار ریس سیریز مختلف کھیل کے کلبوں کے ساتھ مل کر بچوں کے لیے مخصوص ریس سیریز کا انعقاد کیا جائے۔ ہر ہفتے بچوں کے لیے 100 میٹر یا ایک میل تک ریسنگ ٹریک کا اہتمام کیا جائے۔ ہر ہفتے ریس سے قبل کسی گیسٹ اسپیکر کو مدعو کیا جائے اور ریس سے قبل وارم اپ کا اہتمام کیا جانا چاہیے تاکہ بچوں میں کھیل کود کے ساتھ صحت کے بارے میں بھی معلومات حاصل ہوسکے۔ ریس کے دوران یہ بھی خیال رکھیں کہ بچوں کو ان کی عمر کے مطابق کم اور زیادہ فاصلے والے ریسنگ ٹریک پر دوڑایا جائے اور ہر بچے کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ کلب کا حصہ بنیں بچوں کو دوڑنے کی طرف مائل کرنے کے لیے مقامی سطح پر کلب تشکیل دیے جائیں۔ کلب کی جانب سے ایسے پروگرامز کا انعقاد کیا جائے جہاں بچوں کو اپنے اہداف بنانے اور اپنی صلاحیت کے مطابق انہیں حاصل کرنے کے بارے میں تعلیم دی جائے۔ ساتھ ساتھ اہداف کے حصول کے لیے ان کی مختلف طریقوں سے حوصلہ افزائی بھی کی جائے۔ اس طرح کے پروگرامز بچوں کو متحرک کرنے کے ساتھ یہ بھی سکھائیں گے کہ کس طرح کم وقت اور آسان اقدامات سے بڑے بڑے مقاصد حاصل کیے جاسکتے ہیں۔ ان پروگراموں میں بچوں کے ساتھ اگر ان کے والدین بھی شریک ہوں تو اور بھی اچھا ہے۔ اپنے بچوں کو دیگر بچوں کے ساتھ مقابلہ کرنے کے بجائے مل جل کر اور تعاون کے ساتھ کھیل کود میں حصہ لینے کی تلقین کریں۔ اپنے بچوں کے ساتھ دوڑ لگائیے آپ کو دیکھ کر آپ کے بچے میں بھی دوڑنے کی خواہش اور طلب پیدا ہوگی لہٰذا کوشش کیجیے کہ بچوں کے ساتھ دوڑ لگانے کے منصوبے بنائیں۔ دوڑنے سے بچوں کو جسمانی و ذہنی فائدے حاصل ہوتے ہیں اور یہ ایک ایسا کھیل ہے جس سے وہ نہ صرف اپنے بچپن میں بلکہ اپنی بالغ زندگی میں داخل ہونے کے بعد بھی لطف اندوز ہوسکتے ہیں۔ لہٰذا بچوں کو ریس ٹریک پر لائیں اور دوڑنے کے لیے حوصلہ افزائی کیجیے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



عربوں کا کیا قصورہے؟


ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…