بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

ایک ماہ میں 3 چاکلیٹ بار کھانا کیوں عادت بنانا ضروری؟

datetime 1  ستمبر‬‮  2018 |

امریکا(مانیٹرنگ ڈیسک) اگر تو آپ کو منہ میں گھل جانے والی چاکلیٹ کی لذت پسند نہیں تو پھر بھی اسے زندگی کا حصہ بنالیں کیونکہ یہ جان لیوا امراض سے موت کا خطرہ ٹالنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔ جی ہاں چاکلیٹ کھانا دل کی صحت کے لیے بہت زیادہ فائدہ مند ہے۔ یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔ آئیکان یا ‘Icahn’ اسکول آف میڈیسین کی تحقیق میں بتایا گیا۔

اعتدال میں رہ کر اس میٹھی سوغات سے لطف اندوز ہونا ہارٹ فیلیئر کا خطرہ کم کرتا ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ جو لوگ ایک مہینے میں 3 چاکلیٹ بار کھاتے ہیں، ان میں ہارٹ فیلیئر کا خطرہ 13 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔ تحقیق کے مطابق چاکلیٹ میں موجود قدرتی مرکبات یعنی فلیونوئڈز شریانوں کی صحت کو بہتر کرکے ورم کو کم کرتے ہیں۔ چاکلیٹ غذائی فلیونوئڈز کے حصول کا اہم ذریعہ ہے جو ورم کم کرکے صحت کے لیے بہتر کولیسٹرول کی سطح بڑھاتے ہیں۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ یہ مرکبات جسم میں نائٹرک آکسائیڈ کی مقدار بڑھاتے ہیں جو خون کی شریانوں کو پھیلانے اور دوران خون کو بہتر کرنے میں مدد دینے والی گیس ہے۔ مگر محققین نے خبردار کیا کہ اس میٹھی سوغات کو زیادہ کھانے کی عادت ہارٹ فیلیئر کا خطرہ 17 فیصد بڑھا دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خون کی شریانوں سے جڑے امراض کا خطرہ کم کرنے کے لیے ڈارک چاکلیٹ کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ اس سے قبل گزشتہ سال ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ چاکلیٹ کھانے کی عادت یاداشت کو بہتر بنانے میں مدد دیتی ہے۔ محققین کا کہنا تھا کہ چاکلیٹ کھانے کا یہ مطلب نہیں کہ آپ فوری طور پر اسمارٹ ہوجائیں گے کیونکہ بازار میں دستیاب عام چاکلیٹ بار میں مناسب مقدار میں فلیونوئیڈز موجود نہیں ہوتے مگر ‘کوکا’ ضرور فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…