بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

شراب کی معمولی سی مقدار بھی صحت کے لئے نقصان دہ ہے،طبی ماہرین

datetime 28  اگست‬‮  2018 |

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک)شراب یا الکُحل کی معمولی سی مقدار کا استعمال بھی صحت کے لیے تباہ کن ثابت ہوسکتا ہے۔ یہ حقائق شراب کے حوالے سے اب تک کی ہونے والی سب سے بڑی طبی تحقیق میں سامنے آئے ہیں، جس کے لیے 243 اداروں کے 512 محققین نے 195 ممالک اور خطوں میں الکحل کے استعمال سے 1990 سے 2016 کے دوران ہونے والی اموات اور معذوری کے ریکارڈ کا جائزہ لیا۔

طبی جریدے دی لانسیٹ میں شائع تحقیق میں کہا گیا کہ درحقیقت شراب کے استعمال کی کوئی محفوظ حد نہیں، اس کا ایک قطرہ بھی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔ اس تحقیق کے دوران محققین کا مقصد یہ تخمینہ لگانا تھا کہ الکحل کا استعمال 23 طبی مسائل کا خطرہ بڑھانے میں کس حد تک اثرات مرتب کرتا ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ صرف 2016 میں ہی الکحل کے استعمال کے باعث دنیا بھر میں 30 لاکھ کے قریب اموات ہوئیں۔ واشنگٹن یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے محقق ایمانول گاکیودو کے مطابق الکحل سے منسلک طبی خطرات بہت زیادہ ہوتے ہیں اور ہم نے دریافت کیا کہ شراب نوشی اور کینسر یا خون کی شریانوں کے مسائل سے قبل از وقت موت کے درمیان ٹھوس تعلق موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ برسوں سے ماہرین کہتے آرہے ہیں کہ ایک یا 2 گلاس کا استعمال صحت کے لیے نقصان دہ نہیں، مگر ہم نے دریافت کیا کہ اگر آپ خود کو صحت مند رکھنا چاہتے ہیں تو ایک بوند بھی خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ 2016 میں دنیا بھر میں 2 ارب سے زائد افراد الکحل کا استعمال کررہے تھے اور اس لت سے بیمار ہوکر مرنے والوں کی سب سے کم تعداد مشرق وسطیٰ کے ممالک میں دیکھنے میں آئی۔ اس کے مقابلے میں مشرقی یورپ، وسطیٰ ایشیائی ممالک، افریقی ممالک میں سب سے زیادہ اموات ریکارڈ کی گئیں۔ تحقیق کے مطابق 15 سے 49 سال کے افراد میں الکحل کا استعمال مختلف امراض کے تجربے کا خطرہ بڑھاتا ہے۔

اس لت کے نتیجے میں بریسٹ کینسر، نرخرے کے کینسر، فالج، ٹی بی، خود کو نقصان پہنچانے، حادثات اور جگر کے امراض سمیت لاتعداد بیماریوں کا خطرہ بڑھتا ہے۔ محققین کا کہنا تھا کہ یہ الکحل کے استعمال کے حوالے سے اب تک ہونے والی سب سے بڑی تحقیق ہے۔ اس سے قبل رواں سال لانسیٹ میں شائع ایک اور تحقیق میں بھی بتایا گیا تھا کہ ہفتہ بھر میں 100 گرام الکحل کا استعمال بھی لوگوں میں موت کا خطرہ بڑھانے کے لیے

کافی ثابت ہوتا ہے۔ اس نئی تحقیق کے مطابق ایک گلاس کا استعمال ہی 23 امراض میں سے کسی کے شکار ہونے کا خطرہ بڑھاتا ہے، اگر یہ تعداد 2 یا 3 ہو تو یہ خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ محققین کا کہنا تھا کہ مسلم ممالک میں الکحل کے استعمال کی شرح انتہائی کم ہے۔ دنیا بھر میں پاکستانی مردوں میں یہ شرح سب سے کم ہے جو کہ 0.0007 فیصد اوسطاً ہے جبکہ خواتین میں سب سے کم شراب نوشی کے حوالے سے ایران سرفہرست ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…