بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

میک اپ اور ٹافیوں میں استعمال ہونے والے کیمیکل سے کون سی خطرناک بیماری پھیل رہی ہے؟امریکی ماہرین نے خبر دار کردیا

datetime 6  اگست‬‮  2018 |

کراچی(این این آئی)غذاؤں اور میک اپ میں استعمال ہونے والے انتہائی مضر کیمیکلز پر آئے دن رپورٹیں چھپتی رہتی ہیں،امریکی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عام میک اپ اور ٹافیوں میں استعمال ہونے والے کیمیکلز ٹائپ ٹو ذیابیطس کی وجہ بن رہے ہیں۔آسٹن میں یونیورسٹی آف ٹیکساس کے ماہرین نے کہا ہے کہ ٹائٹانیئم ڈائی آکسائیڈ ایک عام سفید رنگ ہے جو کاسمیٹکس سے لے کر ٹافیاں بنانے تک میں بکثرت استعمال ہوتا ہے۔

اس کی خاطر خواہ مقدار ایسے افراد کے لبلبوں میں ملی ہے جو پہلے ہی ٹائپ ٹو ذیابیطس کے شکار ہوچکے تھے۔اسی بنا پر ماہرین کہہ رہے ہیں کہ ٹائٹانیئم ڈائی آکسائیڈ بھی ٹائپ ٹو ذیابیطس کی وجہ بن سکتی ہے۔ انسانی جسم میں کئی دھاتوں کی موجودگی کے باوجود یہ رنگ(پگمنٹ)صحتمند انسانی ٹشوز اور خلیات میں نہیں پایا جاتا۔ اسی بنا پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ کھانے پینے کی اشیا سے انسانی جسم میں پہنچ رہا ہے۔اس کے لئے ڈاکٹروں نے ٹائپ ٹو ذیابیطس کے 8 مریضوں اور 3 صحمتند افراد کے عطیہ کردہ لبلبے لے کر انہیں چیر پھاڑ کر دیکھا تو معلوم ہوا کہ شوگر سے محفوظ افراد کے لبلبوں میں ٹائٹانیئم ڈائی آکسائیڈ موجود نہیں تھا جبکہ ٹائپ ٹو ذیابیطس کے مریضوں کے لبلبوں میں اس دھات کے ذرات موجود تھے۔ماہرین نے فی گرام لبلبے میں ٹائٹانیئم ڈائی آکسائیڈ کے 20 کروڑ ذرات دیکھے ہیں جو بہت بڑی مقدار کو ظاہر کرتے ہیں۔ لیکن شوگر سے بچ رہنے والے مریضوں میں ان کا کوئی نشان تک نہ تھا۔ ماہرین کا خیال ہے کہ ٹائٹانیئم ڈائی آکسائیڈ کے یہ ذرات میک اپ مصنوعات اور ٹافیوں یا مٹھائیوں کے ذریعے بدن کے اندر پہنچے ہیں۔اس وقت مٹھائیوں، روغن، میک اپ، دواں ، ٹوتھ پیسٹ، پلاسٹک، کاغذ، کاسمیٹکس اور دیگر مصنوعات میں ٹائٹانیئم ڈائی آکسائیڈ اندھا دھند استعمال ہورہا ہے۔

1960 سے اب تک اس کی سالانہ عالمی کھپت 40 لاکھ ٹن تک پہنچ چکی ہے۔دوسری جانب عالمی ادارہ برائے صحت(ڈبلیو ایچ او)کے مطابق گزشتہ چالیس برس میں ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد 400 فیصد تک بڑھ چکی ہے۔ اسی بنا پر ماہرین کہہ رہے ہیں کہ ٹائپ ٹو ذیابیطس کے وبائی پھیلاؤ میں ٹائٹانیئم ڈائی آکسائیڈ کو کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…