اتوار‬‮ ، 02 اگست‬‮ 2026 

مزیدار پھل کے ‘کرشماتی پتے’ ذیابیطس کنٹرول کرنے میں مددگار

datetime 25  جولائی  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) ذیابیطس کا مرض مختلف بیماریوں کی جڑ ثابت ہوتا ہے جبکہ غذا کے حوالے سے بہت زیادہ احتیاط کرنا پڑتی ہے اور اسے کنٹرول کرنا بظاہر ناممکن لگتا ہے۔ مگر ایک قدیم چینی طریقہ کار اس لاعلاج مرض کے علاج (کنٹرول میں رکھنے) کی کنجی ثابت ہوسکتا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق آم کے درخت کے پتے (جو اکثر جگہوں پر عام نظر آتے ہیں)

خصوصاً ایکسٹریکٹ کے ساتھ صدیوں سے دمہ اور ذیابیطس کے علاج کے لیے استعمال کیے جارہے ہیں۔ آم موٹاپے اور ذیابیطس کے خلاف موثر ہتھیار یہ پتے ضروری وٹامنز اور نیوٹریشن سے بھرپور ہوتے ہیں جو کہ ذیابیطس کے مریضوں کے لیے اس مرض کو کنٹرول کرنا زیادہ آسان بنادیتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ان پتوں میں موجود ایکسٹریکٹ انسولین کی تیاری اور گلوکوز کی تقسیم کو بہتر بناتا ہے جبکہ بلڈ شوگر لیول کو موثر طریقے سے مستحکم کرتا ہے۔ یہ پتے پیسٹین، وٹامن سی اور فائبر سے بھرپور ہوتے ہیں جو کہ صحت کے لیے نقصان دہ کولیسٹرول کی سطح بھی کم کرتے ہیں۔ اسی طرح یہ پتے ذیابیطس کی علامات جیسے رات کو اکثر پیشاب آنا، وزن میں غیرمتوقع کمی اور نظر دھندلانے وغیرہ کو بھی کم کرتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اگر کسی کو ذیابیطس کا مرض نہ بھی ہو تو بھی یہ کرشماتی پتے طبی لحاظ سے فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں جس کی وجہ ان میں موجود اینٹی آکسائیڈنٹس کی بہت زیادہ مقدار ہے، جو کہ جسم سے زہریلے مواد کے اخراج اور الرجی سے تحفظ دیتے ہیں۔ ذائقے سے بھرپور آم کے حیران کن طبی فوائد ایک طبی تحقیق میں بھی ان فوائد کی تصدیق کی گئی تھی۔ 2010 میں جانوروں پر ہونے والی ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ مینگو ایکسٹریکٹ غذائی نالی میں گلوکوز کو کم جذب کرتا ہے اور بلڈ شوگر لیول کو کم کرتا ہے۔ ان پتوں کو استعمال کرنے کے لیے دس سے پندرہ پتے پانی میں ابالیں اور رات بھر کے لیے چھوڑ دیں۔ صبح ناشتے سے پہلے اسے چائے کی شکل میں پی لیں۔ اس کو دو سے تین مہینے تک اپنانے پر ذیابیطس کے مرض کی شدت میں نمایاں کمی محسوس ہوگی۔ یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک


میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…