بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

مزیدار پھل کے ‘کرشماتی پتے’ ذیابیطس کنٹرول کرنے میں مددگار

datetime 25  جولائی  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) ذیابیطس کا مرض مختلف بیماریوں کی جڑ ثابت ہوتا ہے جبکہ غذا کے حوالے سے بہت زیادہ احتیاط کرنا پڑتی ہے اور اسے کنٹرول کرنا بظاہر ناممکن لگتا ہے۔ مگر ایک قدیم چینی طریقہ کار اس لاعلاج مرض کے علاج (کنٹرول میں رکھنے) کی کنجی ثابت ہوسکتا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق آم کے درخت کے پتے (جو اکثر جگہوں پر عام نظر آتے ہیں)

خصوصاً ایکسٹریکٹ کے ساتھ صدیوں سے دمہ اور ذیابیطس کے علاج کے لیے استعمال کیے جارہے ہیں۔ آم موٹاپے اور ذیابیطس کے خلاف موثر ہتھیار یہ پتے ضروری وٹامنز اور نیوٹریشن سے بھرپور ہوتے ہیں جو کہ ذیابیطس کے مریضوں کے لیے اس مرض کو کنٹرول کرنا زیادہ آسان بنادیتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ان پتوں میں موجود ایکسٹریکٹ انسولین کی تیاری اور گلوکوز کی تقسیم کو بہتر بناتا ہے جبکہ بلڈ شوگر لیول کو موثر طریقے سے مستحکم کرتا ہے۔ یہ پتے پیسٹین، وٹامن سی اور فائبر سے بھرپور ہوتے ہیں جو کہ صحت کے لیے نقصان دہ کولیسٹرول کی سطح بھی کم کرتے ہیں۔ اسی طرح یہ پتے ذیابیطس کی علامات جیسے رات کو اکثر پیشاب آنا، وزن میں غیرمتوقع کمی اور نظر دھندلانے وغیرہ کو بھی کم کرتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اگر کسی کو ذیابیطس کا مرض نہ بھی ہو تو بھی یہ کرشماتی پتے طبی لحاظ سے فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں جس کی وجہ ان میں موجود اینٹی آکسائیڈنٹس کی بہت زیادہ مقدار ہے، جو کہ جسم سے زہریلے مواد کے اخراج اور الرجی سے تحفظ دیتے ہیں۔ ذائقے سے بھرپور آم کے حیران کن طبی فوائد ایک طبی تحقیق میں بھی ان فوائد کی تصدیق کی گئی تھی۔ 2010 میں جانوروں پر ہونے والی ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ مینگو ایکسٹریکٹ غذائی نالی میں گلوکوز کو کم جذب کرتا ہے اور بلڈ شوگر لیول کو کم کرتا ہے۔ ان پتوں کو استعمال کرنے کے لیے دس سے پندرہ پتے پانی میں ابالیں اور رات بھر کے لیے چھوڑ دیں۔ صبح ناشتے سے پہلے اسے چائے کی شکل میں پی لیں۔ اس کو دو سے تین مہینے تک اپنانے پر ذیابیطس کے مرض کی شدت میں نمایاں کمی محسوس ہوگی۔ یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…