بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

بہت زیادہ جمائیاں آنا کن امراض کی علامت؟

datetime 25  جون‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) جمائی لینا ایک قدرتی عمل ہے مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ بہت زیادہ جمائیاں لینا نقصان دہ بلکہ کسی مرض کی علامت ہوسکتا ہے؟ جی ہاں واقعی ایسا ہوتا ہے اور اس کی وضاحت تو آپ نیچے پڑھ ہی لیں گے، مگر یہ جان لیں کہ جب کوئی شخص جمائی لیتا ہے تو اپنا منہ کھولتا ہے جس سے پھیپھڑے ہوا سے بھر جاتے ہیں، کانوں کے پردے کھچ جاتے ہیں۔

اضافی آکسیجن دماغ اور جسم کے دیگر حصوں تک پہنچ جاتی ہے۔ جمائی لینے سے دماغ تک آکسیجن اور خون پہنچنے سے ذہنی طور پر چوکنا پن بڑھتا ہے اور عام طور پر جمائی آتی بھی اسی وجہ ہے جب ہم ذہنی طور پر سست یا تھکاوٹ کے شکار ہوں۔ کچھ لوگ بہت زیادہ جمائیاں کیوں لیتے ہیں؟ ایک تحقیق میں تو بتایا گیا تھا کہ جمائی دماغ کو بڑا اور اس کے حصوں کو سرگرم کرتی ہے جبکہ 2007 کی ایک تحقیق میں دعویٰ کیا گیا کہ اس عمل کے نتیجے میں آکسیجن ملنے سے دماغ کو ٹھنڈک پہنچتی ہے۔ تو جمائی لینا تو معمول کا حصہ ہے مگر بہت زیادہ جمائیاں کسی مخصوص عارضے کا نتیجہ ہوسکتی ہیں، جو درج ذیل ہیں۔ اعصابی نظام میں گڑبڑ بلڈپریشر اور دل کی دھڑکن کو ریگولیٹ کرنے والے اعصابی نظام مسئلے کا شکار ہو تو بہت زیادہ جمائیاں آنے لگتی ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ بلڈ پریشر اور دھڑکن کی رفتار میں کمی کے نتیجے میں دماغ تک خون کی رسائی محدود ہوجاتی ہے، ایسی صورتحال میں دماغ خودکار طور پر جمائی کے ذریعے آکسیجن کی مقدار بڑھانے کی کوشش کرتا ہے۔ ادویات ایسی ادویات جو غنودگی کا شکار کرتی ہیں، وہ بھی بہت زیادہ جمائیوں کا باعث بنتی ہیں۔ جگر کے امراض جگر کے امراض اگر سنگین مرحلے تک پہنچ جائیں تو بھی بہت زیادہ جمائیاں آنے لگتی ہیں، اس مرحلے پر جسمانی طور پر تھکاوٹ بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے جو جمائیوں کی وجہ بنتی ہے۔ نیند کے مسائل بے خوابی یا نیند کے دوران سانس میں رکاوٹ ہونا ایسے عارضے ہیں جو شدید جسمانی تھکاوٹ کا باعث بنتے ہیں اور اس کے شکار لوگ اکثر جمائیاں لیتے نظر آتے ہیں۔ سونے سے قبل جرابیں پہننے کا یہ فائدہ جانتے ہیں؟ بلڈ شوگر کی سطح میں اچانک کمی بہت زیادہ جمائیاں ذیابیطس کے شکار کے افراد میں بلڈشوگر کی سطح میں اچانک بہت زیادہ کمی کی نشانی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…