پیر‬‮ ، 01 جون‬‮ 2026 

کھڑے ہوکر پانی پینا صحت کے لیے نقصان دہ؟

datetime 23  جنوری‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)اسلامی تعلیمات میں پانی بیٹھ کر چند گھونٹ میں پینے کی ہدایات ملتی ہیں جبکہ کھڑے ہوکر پانی پینے سے روکا جاتا ہے بلکہ اکثر اس پر لوگوں کی جانب سے ٹوکا بھی جاتا ہے، مگر کیا یہ عادت کسی قسم کے نقصان کا باعث بنتی ہے؟ طبی سائنس میں تو اس حوالے سے کوئی واضح جواب موجود نہیں یا اس پر کبھی توجہ نہیں دی گئی مگر آیورویدک طریقہ علاج میں اس عادت کو صحت کے لیے ضرور نقصان دہ قرار دیا گیا ہے۔

اس طریقہ علاج کے ماہرین جن نقصانات کا ذکر کرتے ہیں وہ درج ذیل ہیں۔ مزید پڑھیں : زیادہ پانی پینا جسم پر کیا اثرات مرتب کرتا ہے؟ نظام ہاضمہ کے افعال متاثر کرے جسم کھڑے ہوکر پانی پیا جاتا ہے تو یہ معدے کی دیوار سے ٹکراتا ہے اور لہر کی شکل میں نیچے جاتا ہے، یہ لہر معدے کی دیوار، ارگرد موجود اعضاءاور غذائی نالی پر منفی اثرات مرتب کرسکتی ہے، طویل مدت تک اس مشق کو اپنانا نظام ہاضمہ کے افعال متاثر کرسکتا ہے۔ گردوں کے افعال پر اثرانداز گردوں کا کام جسم میں موجود زہریلے مواد کی صفائی ہے اور یہ عادت اسے متاثر کتی ہے، جس کے نتیجے میں مختلف مسائل پیدا ہونے کا خطرہ ہوتا ہے یعنی گردوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے یا پیشاب کی نالی کی سوزش کا شکار ہوسکتی ہے۔ جوڑوں کے امراض کھڑے ہوکر پانی پینے کی عادت جسم میں سیال کے توازن کو بگاڑتی ہے اور اضافی سیال جوڑوں میں اکھٹاہوکر جوڑوں کے امراض کا باعث بنتا ہے۔ یہ بھی پڑھیں : سادہ پانی یا ٹھنڈا: صحت کے لیے بہتر کیا؟ معدے کی تیزابیت اس طرح پانی پینا غذائی نالی کو متاثر کرتی ہے جس سے معدے میں تیزابیت کی شکایت کا امکان بڑھ جاتا ہے جو آگے بڑھ کر سینے میں جلن یا السر وغیرہ کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ پیاس نہیں بجھتی ماہرین کے مطابق کبھی کبھار کھڑے ہوکر پانی پینے میں کوئی برائی نہیں یا نقصان نہیں ہوتا مگر اس عادت بنالینے سے گریز کرنا چاہئے، اس عادت کے نتیجے میں پیاس کی بھی صحیح معنوں میں تشفی نہیں ہوتی۔ نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…