منگل‬‮ ، 01 ستمبر‬‮ 2026 

بوسٹن اور آکسی ٹاکسن نامی انجکشن لگنے سے بھینسوں کو کینسر،پاکستان میں بچوں کو یہی کینسر والا دودھ پلایا جارہا ہے،رپورٹ میں تہلکہ خیز انکشافات

datetime 3  جنوری‬‮  2018 |

کراچی(این این آئی)حال ہی میں پاکستان میں فروخت ہونے والے ڈبہ پیک دودھ اور کھانے پینے کی اشیا پر تحقیق کی گئی، جس کے مطابق پاکستان میں ڈبا پیک دودھ اور کھانے میں کیمیکل فارمولین پایا جاتا ہے، جو ایک کینسر پیدا کرنے والا کیمیکل ہے۔رپورٹ کے مطابق زیادہ دودھ حاصل کرنے کی لالچ میں بھینسوں کو بوسٹن اور آکسی ٹاکسن نامی انجکشن لگا ئے جاتے ہیں، جن سے بھینسوں کو کینسر ہو رہا ہے اور بچے انہی بھینسوں کا دودھ

پیتے ہیں۔زیادہ دودھ کے لالچ میں بھینسوں کو ایسے انجکشن لگائے جا رہے ہیں جن سے انہیں کینسر کا مرض لاحق ہو رہا ہے ،بھینسیں کینسر سے مر بھی رہی ہیں اور کینسر زدہ بھینسوں کا دودھ فروخت کیا جا رہا ہے جو زیادہ تر بچوں کو پلانے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔یہ انکشافات سی ای او ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان اور ڈپٹی سیکریٹری لائیو اسٹاک پنجاب نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے بین الصوبائی رابطہ کے اجلاس میں کیے۔سی ای او ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان ڈاکٹر اسلم افغانی نے بتایا جانوروں کی بہت سی غیر رجسٹرڈ اور غیر قانونی ادویات ملکی مارکیٹ میں دستیاب ہیں، ان پر پابندی لگانی چاہیے۔ڈپٹی سیکریٹری لائیو اسٹاک پنجاب نے کہا ڈبہ بند دودھ اور کھانا مضر صحت ہونے سے متعلق متعدد بار لکھ کر دے چکے ہیں، بوسٹن انجکشن کی رجسٹریشن ہی مجرمانہ فعل ہے اور اس پر باقی صوبوں نے پابندی لگا دی مگر سندھ نے حکم امتناع لے رکھا ہے۔انہوں نے کہا کہ کانگو وائرس والے ممالک سے گوشت آتا ہے پکڑا جاتا ہیلیکن پھر استعمال بھی ہوتا ہے۔ڈائریکٹر سندھ لائیو اسٹاک نے کہا کہ 18 ویں ترمیم کے تحت صوبہ سندھ کو اختیارات نہیں ملے، صوبے میں ویٹرنری لیبارٹری ہے نہ سہولیات۔ڈی جی لائیو اسٹاک بلوچستان نے بتایا کہ بلوچستان سے بڑے پیمانے پر جانور ایران اسمگل ہو رہا ہے، ایران پاکستانی جانوروں کا گوشت ایرانی گوشت کے نام پر عالمی منڈیوں میں فروخت کر رہا ہیجبکہ پاکستان اس زر مبادلہ سے محروم ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…