منگل‬‮ ، 01 ستمبر‬‮ 2026 

دودھ اور مچھلی کے حوالے سے تصوراتی کہانیوں کی اصل حقیقت

datetime 30  اکتوبر‬‮  2017 |

لاہور (نیوز ڈیسک) کھانے پینے کی چیزوں کے مجموعے کے حوالے سے بنی ہوئی تصوراتی کہانیاں کوئی نئی بات نہیں۔ مختلف اقسام کے کھانے پینے کی اشیاء کے حوالے سے معاشرے میں عجیب و غریب کہانیاں سننے کو ملتی ہیں لیکن سائنسی اعتبار سے لوگ انہیں سمجھنے سے آج بھی قاصر ہیں۔ اسی طرح کوئی بھی انسان جب مچھلی کھاتا ہے تو اس کو ہمیشہ کی طرح یہی تلقین کی جاتی ہے کہ مچھلی کھانے کے بعد دودھ کا استعمال نہ کرنا کیونکہ مچھلی کھانے کے بعد دودھ پینے سے پھلبیری (جسم پر سفید داغ پڑ جانا) ہو جاتی ہے۔

اس کے علاوہ ہمارے ہاں کہا جاتا ہے کہ جن مہینوں میں  ر  نہیں آتا ان میں مچھلی نہ کھائیں کیونکہ مچھلی کی افزائش نسل ان مہینوں میں ہوتی ہے۔ باہر کے ممالک میں ہر موسم میں مچھلی کا استعمال کیا جاتا ہے۔ ہندو کلچر میں دودھ اور مچھلی کے مجموعہ کو بدشُگون سمجھنے کے ساتھ ساتھ اسے مختلف بیماریوں کا موجب ٹھہرایا جاتا ہے۔ اس قسم کی روایات اور کہانیاں قدیم مصر، مشرق وسطیٰ، شمالی نائیجیریا، قرون وسطیٰ کے یورپ اور نو آبادیاتی امریکہ میں پائی جاتی ہیں۔ ایک حالیہ سائنسی تحقیق کے مطابق مچھلی کھانے کے بعد دودھ پینے سے پھلبیری (جسم پر سفید داغ پڑ جانا) ہونے کے تصور میں کوئی صداقت نہیں ہے اور نہ ہی مچھلی اور دودھ ایک نارمل انسان کو کوئی نقصان پہنچاتے ہیں . سفید داغ انسانی جسم پر اس لئے پڑتے ہیں جب انسانی جسم میں بننے والے سیلز یعنی میلنوسائٹس ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتے ہیں یا مردہ ہو جاتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق فنگس انفکیشن بھی جسم پر پڑنے والی سفید داغوں کی وجہ بنتی ہے۔ مچھلی کے بعد دودھ پینے سے ایسی کوئی بیماری انسان کو نہیں لگتی۔ متلی، کھجلی یا پیٹ میں درد خاص طور پر کھانے کے بعد الرجی کی صورتیں ہو سکتی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…