منگل‬‮ ، 01 ستمبر‬‮ 2026 

ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بیٹھنے کا ایسا نقصان کہ جان کر آپ یہ عادت چھوڑ دیں گے ، ماہرین نے تنبیہ کر دی 

datetime 27  اکتوبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )ٹانگ پر ٹانگ رکھ یا چڑھا کر بیٹھنا بہت ہی زیادہ عام عادت ہے اور اکثر بیٹھنے کے دوران اس پر توجہ بھی نہیں دیتے۔ہوسکتا ہے کہ ایسے بیٹھنا آپ کو آرام دہ لگتا ہو یعنی ایک گھٹنا دوسرے گھٹنے کے اوپر مگر یہ عادت آپ کے اندازوں سے بھی زیادہ صحت کے لیے تباہ کن ہے۔یہ دعویٰ ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔تحقیق میں بتایا گیا کہ

اس طرح بیٹھنا درحقیقت بلڈ پریشر کو بڑھانے کا باعث بنتا ہے۔جی ہاں بلڈ پریشر، جس کی وجہ یہ ہے کہ ٹانگ کے اوپر ٹانگ رکھنے سے ٹانگوں میں خون کو کشش ثقل کے مخالف کام کرکے واپس دل کی جانب ہوتا ہے جبکہ بیٹھنے کا یہ انداز اس عمل کے لیے مزاحمت پیدا کرتا ہے، جس کے نتیجے میں خون کی گردش مشکل ہوجاتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ جسم بلڈ پریشر بڑھا کر خون کو واپس دل تک پہنچاتا ہے۔آپ کو اس کے فوری اثرات کا احساس تو نہیں ہوگا تاہم اگر آپ کے دن کا زیادہ وقت بیٹھ کر گزرتا ہے تو یہ ضروری ہے کہ آپ اس پر توجہ دیں کہ آپ ٹانگوں کو کتنی دیر تک ایک دوسرے پر رکھتے ہیں۔حقیق کے مطابق کسی بھی صورت پندرہ منٹ سے زیادہ اس انداز میں نہ بیٹھیں اور ہر ایک گھنٹے میں کچھ منٹ کے لیے چہل قدمی کو یقینی بنائیں۔تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ یہ عادت گردن اور کمردرد کا بھی باعث بنتی ہے کیونکہ ہمارا جسم اس وقت زیادہ متوازن ہوتا ہے جب پیر فرش پر ہوں، تاہم دفاتر میں اس طرح پورے دن بیٹھنا کوئی آسان کام نہیں۔جب آپ ٹانگ پر ٹانگ چڑھاتے ہیں تو کولہے ایک ٹوئیسٹ پوزیشن میں آجاتے ہیں جس کے نتیجے میں pelvic کی ہڈی مڑ جاتی ہے جو کہ گردن اور ریڑھ کی ہڈی کو سپورٹ دے رہی ہوتی ہے، جس کے نتیجے میں ان حصوں پر دباؤ بڑھ جاتا ہے۔تحقیق کے مطابق بہت دیر تک ٹانگ پر ٹانگ چڑھائے رکھنے کے نتیجے میں ٹانگوں میں سوئیاں چبھنے یا سن ہوجانے کا احساس بھی ہوتا ہے، جس کی وجہ یہ ہے کہ اس انداز سے ٹانگوں اور پیروں

 

کے اعصاب اور شریانوں پر دباؤ بڑھ جاتا ہے جس کے نتیجے میں پیر عارضی طور پر سن یا مفلوج ہوجاتے ہیں۔یہ حالت ایک سے دو منٹ تک رہتی ہے مگر بار بار ایسا کرنے سے ٹانگوں کا سن ہونا اعصاب کو مستقل بنیادوں پر نقصان پہنچا سکتا ہے۔تو اگلی بار بیٹھنے کے بعد کوشش کریں کہ آپ کے دونوں پیر فرش پر ہوں جو کہ طویل المعیاد بنیادوں پر صحت کے لیے فائدہ مند پوز ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…