منگل‬‮ ، 01 ستمبر‬‮ 2026 

’’اسلام یونہی تو موسیقی کو حرام نہیں کہتا ‘‘

datetime 27  اکتوبر‬‮  2017 |

عالمی ادارۂ صحت کا کہنا ہے کہ قوتِ سماعت کی حفاظت کے لیے روزانہ ایک گھنٹے سے زائد وقت تک موسیقی نہ سنی جائے۔ڈبلیو ایچ او کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس وقت ایک ارب دس کروڑ سے زائد نوجوان اور نو عمر بچے بہت بلند آواز اور زیادہ دیر تک موسیقی سن کر

اپنی قوتِ سماعت کو مستقل بنیادوں پر متاثر کر رہے ہیں۔ادارے کے اعدادوشمار کے مطابق 12 سے 35 سال کی عمر کے درمیان چار کروڑ 30 لاکھ ایسے افراد ہیں جو سننے کی قوت سے محروم ہو چکے ہیں اور یہ تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔۔ڈبلیو ایچ او نے کہا ہے کہ اس تعداد میں نصف وہ افراد ہیں جو امیر اور متوسط آمدن رکھنے والے ممالک سے تعلق رکھتے ہیں اور موسیقی سننے کے لیے ان کے پاس موجود آلات میں آواز کا درجہ غیر محفوظ ہوتا ہے۔بتایا گیا ہے کہ 40 فیصد ایسے نوجوان ہیں جو کلبوں اور شراب خانوں میں چلنے والی موسیقی سے متاثر ہوتے ہیں۔ڈبلیو ایچ او کےنقصانات سے بچاؤ کے ادارے کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ایٹائین کرگ نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ کوشاں ہیں کہ ایک ایسے معاملے پر آگاہی پھیلائی جائے جس پر اب تک زیادہ بات نہیں ہوئی ہو سکی۔امریکہ میں سنہ 1994 میں قوت سماعت متاثر ہونے والے نوجوانوں کی تعداد تین اعشاریہ پانچ فیصد تھی تاہم سنہ 2006 میں یہ تعداد بڑھ کر پانچ اعشاریہ تین فیصد تک جا پہنچی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…