منگل‬‮ ، 01 ستمبر‬‮ 2026 

قربانی کے گوشت کو 2 ماہ تک محفوظ کرنے کے آسان اور آزمودہ ٹوٹکے

datetime 9  ستمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)عید قرباں ختم ہوتے ہی قربانی کا گوشت محفوظ کرنا ایک بہت بڑا مسئلہ ہے جن لوگوں کے پاس فریزر ہیں انہیں تو کوئی پریشانی نہیں لیکن جن کے پاس یہ سہولت نہیں تو وہ کیا کریں؟یہ وہ سوال ہے جو آپ کل سب کے ذہنوں میں گھوم رہا ہے  دنیا بھر میںگوشت کو محفوظ بنانے کے لیے مختلف ٹوٹکے استعمال کیے جاتے ہیں جبکہ جدید دور میں اسے محفوظ بنانے کے لیے فریج کو نہایت اہمیت حاصل ہے یہی وجہ ہے کہ عیدقرباں سے قبل اس کی خرید و فروخت میں اضافہ بھی ہوجاتا ہے۔اگر آپ قربانی کے گوشت کو زیادہ عرصے محفوظ بنانا اور استعمال کرنا چاہتے ہیں تو درج طریقے آزما کر گوشت کو 2 ماہ تک کے لیے محفوظ بنا سکتے ہیں۔

گوشت محفوظ بنانے کے آزمودہ طریقے

قربانی کا گوشت فریز کرنے سے قبل اسے دھونے سے گریز کریں کیونکہ گوشت پر پانی لگنے کے بعد اسے رکھا جائے تو اس میں بیکٹریا پیدا ہوجاتا ہے جو گوشت کو خراب کردیتا ہے۔گوشت کو تھوڑی دیر چولے پر رکھ کر بھونیں اور پھر اسے المونیم فوائل میں لپیٹ کر رکھ دیا جس کے بعد گوشت دو ماہ تک بالکل محفوظ رہے گا۔

ایسے لوگ جن کے پاس فریج موجود نہیں وہ گوشت کو بوٹیوں کی صورت میں کر کے ایک دھاگے میں پرو دیں اور سکھا لیں پھر حسب ضرورت اُسے استعمال کرسکتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…