منگل‬‮ ، 01 ستمبر‬‮ 2026 

چین سے برآمد کی جانیوالی چیز کے ذریعے پاکستان میں ”آموں“ کے ساتھ کیسا گھناؤنا فارمولہ آزمایاجارہاہے؟حیرت انگیزانکشاف

datetime 21  جون‬‮  2017 |

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)آم کوپھلوں کابادشاہ کہاجاتاہے جب ہی گرمیوں میں آم کاسیزن شروع ہوتاہے مارکیٹ میں اس پھل کی بھرمارہوجاتی ہے ،دوکانوں ،ریٹرھیوں اوردیگرمختلف جگہوں پراس کے بیچنے والے بڑے خوبصورت اندازمیں اس پھل کوسجاکربیچنے کےلئے میدان میں آجاتے ہیں جبکہ آم کھانے کے شوقین افراد بھی کسی سے پیچھے نہیں رہتے اورکئی تومینگوپارٹیاں بھی دیتے ہیں اورایسی مینگوپارٹیاں زیاد ہ

ترپرائیویٹ اداروں میں زیادہ دی جاتی ہیں لیکن اب آم کھانے کے شوقین افراد کےلئے ایک پریشانی کی خبرسامنے آئی ہے کہ دیگرپھلوں کی طرح آم کوبھی ذخیرہ اندوززیادہ سے زیادہ منافع کمانے کےلئے ذخیرہ کرتے ہیں اوران کے ذخیرے میں زیادہ ترکچے آم ہوتے ہیں لیکن جب ان کومارکیٹ میں لاناہوتاہے تویہ مافیاان کچے آموں کوپکانے کےلئے مصنوعی طریقے سے پکاتے ہیں اوران آموں کارنگ بھی ایسادکھتاہے کہ لوگ ان پرٹوٹ پڑتے ہیں لیکن ان کچے آموں کوپکانے کےلئے جوکیمکل استعمال کیاجاتاہے وہ انسانی صحت کےلئے کسی زہرسے کم نہیں ہے ۔کچے آم کوپکانے کےلئے صرف 4سے 6گھنٹے درکارہوتے ہیں اس کے بعد آم کومارکیٹ میں لایاجاتاہے ۔ماہرین نے بتایاہے کہ کچے آم کوپکانے کےلئے اتھائلن گیس، کاربائڈ اور اتھریل 39 کیمیکل کا استعمال کیاجاتاہے جس سے کچے عام پک توجاتے ہیں لیکن ان کاوہ ذائقہ نہیں رہتاجوکہ اس کاہوناچاہیے ،ماہرین کاکہناہے کہ کچے آم چین سے منگوائے درآمدکئے جانے والےکیلشیم کاربائڈ پاؤچ سے مصنوعی طریقے سے پکائے جاتے ہیں۔ماہرین کے مطابق یہ کیمیکل انتہائی سستا ہے اور صرف چار گھنٹے میں عام کو پکا دیتا ہے،یہ زبردست کیمیکل نمی کے رابطے میں آنے کے ساتھ ہی اتھائلن گیس بناتا ہے جو انسان کے اعصاب کوتباہ کرتاہے اوراس کے اثرات انسانی دماغ پربھی پڑتے ہیں

اوراس کیمکل سے تیارکئے گئے کچے سے پکے آموں سے فوڈپوائزنگ بھی ہوسکتی ہے کیونکہ زہریلاکیمکل انسانی معدے کوزیادہ نقصان پہنچاتاہے جبکہ اس کیمکل کے ذریعے پکنے والے آم کاذائقہ اس طرح کانہیں ہوتاجوکہ مکمل وقت کے ساتھ پک کراستعمال کیاجاتاہے کیونکہ قدرتی طورپرآم کوپکانے کےلئے 18سے 24سینٹی گریڈکے درمیان کادرجہ حرارت ضروری ہے اوراس طرح آم کوپکانے میں ایک ہفتہ درکارہوتاہے ۔ آم قدرتی طورپراس وقت پکتا ہے جب درخت میں ایتھنیل ہارمون پیدا ہونے لگتا ہے۔ماہرین کے مطابق کاربائڈ اور اتھریل کی زیادتی سے کینسر انسانی جسم میں کینسرپیداہونے کاخدشہ ہوتاہے جبکہ دیگرموذی امراض بھی لاحق ہوسکتی ہیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…