منگل‬‮ ، 01 ستمبر‬‮ 2026 

چکن گونیا کی وباء،کتنے مریض روزانہ ہسپتال لائے جارہے ہیں؟تشویشناک دعویٰ کردیاگیا

datetime 19  دسمبر‬‮  2016 |

کراچی (این این آئی)ملیر میں چکین گونیا کا حملہ تحریک انصاف کے رہنما حلیم عادل شیخ کا متاثرہ علاقوں اور اسپتال کا دورہ ،ملیریا اور ڈینگی کے بعد مچھروں سے پھیلنے والی نئی بیماری چکین گونیاکے حملے کے بعد سندھ گورنمنٹ سعود آباد اسپتال میں زیر علاج مریضوں کی عیادت کی ،اس موقع پر سینئر رہنما حلیم عادل شیخ نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ اس اسپتال کا کوئی پرسان حال نہیں ہے روزپندرہ سو مریض اس اسپتال میں آرہے ہیں ،اس بیماری کی اصل وجہ شہر قائد میں پھیلی گندگی ہے اور اس کے حکمرانوں کی خود غرضی ہے ،اس اسپتال کے چاروں طرف غلاظت اور کئی مہینوں سے پڑا ہوا فضلہ جسے کئی ماہ سے کوئی اٹھانے نہیں آیاہے ،انہوں نے کہاکہ کھوکرا پار ملیر غریبوں کی بستی ہے اس لیے یہاں ان مریضوں سے ملنے کے لیے نہ تو وزیراعلیٰ سندھ آئیں ہیں نہ ہی ان کے مشیر اور نہ ہی اس شہر قائد کے مالکوں کو ان مفلسی میں ڈوبے مریضوں کی کوئی فکر ہے ،اگر یہ ہی واقعہ ڈی ایچ اے یا حکومتی حلقوں میں ہوا ہوتا تو یہاں تمام وزیراور مشیر ایک ہی جگہ جمع دکھائی دیتے ،انہوں نے کہاکہ جو صورتحال دیکھی ہے اس میں یہ ہی کہنا مناسب ہوگا کہ اس شہر میں غریبوں کے علاقے اور تمام سرکاری اسپتال لاوارث ہیں ،اس وقت مریضوں کو سرنجوں کے پیچھے خوار کیا جارہاہے متاثرہ لوگوں کا کہنا ہے کہ جب ان لوگوں کے پاس ایک سرنج تک موجود نہیں ہے تو باقی جان بچانے والی ادویات ان کے پاس کیسے ممکن ہوسکتی ہیں ۔

انہوں نے مزید کہاکہ شہریوں میں اس پراسرار بیماری کا خوف موجود ہیں کراچی کے لاکھوں افراد کی زندگیاں اس وقت داؤ پر لگی ہوئی ہیں ، ملیر سمیت کراچی بھر میں غلاظت کے ڈھیر اس بات کی علامت ہیں کہ یہ وائرس پورے کراچی میں بھی پھیل سکتاہے جسے روکنے کے لیے انتظامیہ کو فوری اقدامات اٹھانا ہونگے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…