منگل‬‮ ، 01 ستمبر‬‮ 2026 

دپتلے پتلے لوگ اب قدرتی طریقے سے موٹے ہو سکتے ہیں

datetime 31  اگست‬‮  2016 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)انجیر کو جنت کا پھل بھی کہا جاتا ہے، یہ کمزور اور دبلے پتلے لوگوں کے لئے نعمت بیش بہا ہے۔ انجیر جسم کو فربہ اور سڈول بناتا ہے۔ چہرے کو سرخ و سفید رنگت عطا کرتا ہے۔ انجیر کا شمار عام اور مشہور پھلوں میں ہوتا ہے۔انجیر ایک چھوٹا سا خشک میوہ ہے، جس کے بے شمار فوائد اور متعدد خواص ہیں، جن میں سے چند اہم ترین کا ہم یہاں ذکر کر رہے ہیں۔نظام انہضام کی بہتری: انجیر کے تین ٹکڑے 5گرام ریشوں (فائبر) پر مشتمل ہے، جو روزانہ کی ضرورت کا 20فیصد پورا کردیتا ہے۔ انجیر قدرتی طور پر قبض کشا خشک میوہ ہے، جو آپ کو قبض سے محفوظ رکھنے کے علاوہ نظام انہضام کی مجموعی کارکردگی کو بہتر بناتا ہے۔وزن میں کمی: ریشوں سے بھرپور ہونے کے علاوہ انجیر میں کچھ خاص قسم کی کیلوریز بھی پائی جاتی ہیں۔
لہذا وہ لوگ جو اپنا وزن گھٹانا چاہتے ہیں انجیر کا ضرور استعمال کریں،کیوں کہ ایک انجیر میں صرف 47 کیلوریز ہوتی ہیں۔بلڈ پریشر: خون کے دباﺅکا شکار افراد کے جسم میں سوڈیم اور پوٹاشیم کی سطح متناسب نہیں رہتی اور انجیر کا استعمال اس متناسب کو بحال کرنے میں نہایت مفید ثابت ہوا ہے۔ پوٹاشیم سے بھرپور انجیر بلڈپریشر کو کم کر سکتی ہے ۔دل کے امراض: انجیر میں شامل اینٹی آکسائیڈینٹ کسی بھی دیگر پھل کی نسبت زیادہ معیاری ہوتے ہیں اور یہ مرکبات ایسے مادوں کو خارج کر دیتے ہیں، جو خون کی نالیوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ اینٹی آکسائیڈینٹ کینسر سے بچاﺅکا بھی موجب ہیں۔ہڈیوں کی مضبوطی: کیلشیم سے بھرپور دیگر غذاﺅںکے ساتھ انجیر کا استعمال ہڈیوں کو مضبوط بناتا ہے۔ ایک خشک انجیر کیلشیم کی روزانہ کی ضرورت کا 3فیصد بنتی ہے۔ذیابطیس: ذیابطیس کا شکار افراد اکثر اپنی خوراک کے بارے میں کنفیوڑن کا شکار رہتے ہیں لیکن انجیر کا استعمال آپ کے لئے نہایت سود مند ثابت ہو سکتا ہے۔
انجیر میں قدرتی شوگر ہوتی ہے، جو مصنوعی شوگر کے استعمال کو کم کرکے فائدہ پہنچاتی ہے۔خون کی کمی: ایک انجیر انسانی جسم کو روزانہ درکار آئرن کی 2 فیصد ضرورت کو پورا کرتی ہے اور آئرن کی متناسب مقدار نہ ملنے سے جسم خون کی کمی کا شکار ہو سکتا ہے۔نظام تولید: قدیم علوم کے مطابق یونانی قوت باہ کو بڑھانے کے لئے انجیر کا استعمال کیا کرتے تھے اور آج جدید میڈیکل سائنس نے بھی یہ ثابت کردیا ہے کہ انجیر تولیدی صلاحیتوں میں اضافہ کرتی ہے، کیوں کہ یہ زنک، میگنیشیم اور میگنیز جیسے منرلز سے بھرپور ہوتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…