بدھ‬‮ ، 02 ستمبر‬‮ 2026 

ساری باتیں غلط ثابت۔۔۔ پانی کتنا پینا چاہئے ؟ ماہرین نے بتا دیا

datetime 16  اگست‬‮  2016 |

اسلام آبا د (مانیٹرنگ ڈیسک)صحت مند زندگی کے لیے پانی کا استعمال انتہائی اہم ہے لیکن پانی کا انتہائی زیادہ استعمال بعض اوقات صحت کے لیے نقصان دہ بھی ثابت ہوسکتا ہے۔انسانی جسم کو پانی کی مقررہ مقدار کی ضرورت ہوتی ہے اور ماہرین صحت کی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ گرمیوں میں جسم کے درجہ حرارت کو برقرار رکھنے کے لیے پانی کا استعمال انتہائی اہم ہے لیکن ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ روزانہ جسم کو پانی کی کتنی مقدار کی ضرورت ہوتی ہے اور ضرورت سے زیادہ پانی پینا صحت کے لیے کس حد تک نقصان دہ ہے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ روزانہ اتنی مقدار میں پانی پینا چاہیے جتنی جسم کو ضرورت ہوتی ہے کیونکہ جس طرح پانی کی کمی نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے بالکل اسی طرح پانی کی زیادتی بھی انتہائی نقصان دہ ہوسکتی ہے لہٰذا زیادہ پانی پینے کے حوالے سے کچھ نقصانات بھی ہیں جن سے آپ کو آگاہ کیا جارہا ہے۔
پانی کی زیادتی گردوں کے لیے نقصان دہ:
انتہائی زیادہ پانی کا استعمال گردوں کے لیے نقصان دہ ہوسکتا ہے کیونکہ جب آپ حد سے زیادہ پانی کا استعمال کریں گے تو گردوں کو زیادہ کام کرنا پڑے گا جس سے گردوں کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہوتا ہے۔
پانی کی زیادتی سے دل پر دباؤ کا خدشہ:
پانی کا استعمال جہاں طبی ماہرین صحت کے لیے ضروری قرار دیتے ہیں وہیں ان کاکہنا ہے کہ پانی کی مناسب مقدار استعمال کی جائے کیونکہ زیادہ پانی استعمال کرنے سے خون کا حجم بڑھ جاتا ہے جس کے باعث دل اور خون کی نالیوں پر دباؤ بڑھ جاتا ہے۔
اہم معدنیات کا ضیاع:
حد سے زیادہ پانی کا استعمال جسم میں موجود اہم اور ضروری معدنیات کے جسم سے خارج کی صورت میں سامنے آتاہے لہٰذا پانی کی مناسب مقدار استعمال کی جائے۔
زیادہ پانی پینے کے خون کی گردش پر اثرات:
انسانی جسم انتہائی زیادہ پانی کی مقدار کو کنٹرول کرنے سے قاصر ہوتا ہے لہٰذا زیادہ پانی نظام خون کے لیے خطرناک ہوسکتا ہے جس کی وجہ سے سر درد اور متلی سمیت پٹھوں میں درد کی وجہ بنتا ہے۔طبی ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ پانی کی ضرورت ہر فرد کی عمر، جنس، قد، وزن اور روزمرہ کے معمولات پر منحصر ہوتی ہے لہٰذا کسی دوسرے کی زیادہ پانی پینے کی عادت کو نہیں اپنانا چاہیے:۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…