پیر‬‮ ، 31 اگست‬‮ 2026 

ستمبر میں جون جیسی گرمی ،ماہرین کے چشم کشا انکشافات

datetime 20  ستمبر‬‮  2015 |

کراچی (این این آئی)کراچی میں گزشتہ جون جیسی گرمی پڑنے کی خبروں نے صرف اس کے شہریوں کو ہی نہیں پورے ملک کی عوام اور متعلقہ اداروں کو الرٹ کر دیا ہے۔ ان خبروں کے ساتھ ہی وہ رپورٹس بھی اچانک بہت زیادہ اہمیت اختیار کرگئی ہیں جن میں باربار خبردار کیا جاتا رہا ہے کہ پاکستان ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث دنیا کے سب سے غیر محفوظ ممالک میں شامل ہے. لہذا, فوری طور پر اس کا تدارک ہونا چاہئے۔ عالمی تھنک ٹینک ’جرمن واچ‘ نے رواں ماہ جاری کردہ اپنے تازہ ترین ’گلوبل کلائمیٹ رسک انڈیکس‘ میں پاکستان کو ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث دنیا کے 10 سب سے زیادہ غیر محفوظ ممالک میں شمار کیا تھا۔ ماحولیات اور موسمیاتی تبدیلی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے سبب گرمی کی شدت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور یہ اضافہ اوزون کی تہہ میں پڑنے والے سوراخوں کے بڑھنے سے ہو رہا ہے اور اس میں ’عام گھرانوں میں استعمال ہونے والے کچھ آلات بھی شامل ہیں۔ شاید بہت کم پاکستانی جانتے ہوں کہ اس وقت اوزون کو نقصان پہنچانے میں عام گھرانے اور ان میں استعمال ہونے والے کچھ جدید آلات بھی برابر کے شریک ہیں۔ وہ اس طرح کہ ریفریجریٹرز اور ایئرکنڈیشنز اب تقریباً ہر چوتھے یا پانچویں گھر اور دفتر میں استعمال ہو رہا ہے۔ ان جدید آلات میں ’کلوروفل کاربن‘ استعمال ہوتی ہے جو اوزون کیلئے انتہائی خطرناک ہے۔ موسمیاتی سائنسدان اور سابق ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹرقمر زمان چوہدری کے مطابق کاربن گیس، خاص کر ایئر کنڈیشنز اور ریفریجریٹر میں استعمال ہونے والی کلورو فل کاربن کے بے تحاشہ استعمال سے اوزن کی تہہ میں بڑے پیمانے پر چھید ہوگئے ہیں جس کے باعث سورج کی حدت میں اضافہ تو ہو ہی رہا ہے، سورج کی مضر شعاعیں یعنی الٹرا وائلٹ ریڈیشن سے جلد کے کینسر جیسے موذی مرض نے جنم لیا ہے۔ اقوام متحدہ کے عالمی دن برائے تحفظ اوزون 1995ءسے ہر سال 16ستمبر کو پاکستان سمیت دنیا بھر میں منایا جاتا ہے۔ اس دن کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لئے وفاقی وزارت موسمیاتی تبدیلی مختلف سیمینارز بھی منعقد کراتی رہی ہے۔ اس سال بھی ایسا ہی ایک سیمینار اسلام آباد میں ہوا جس میں ماہرین نے اوزون کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اوزن کی تہہ سورج کی روشنی کے زمین اور اس پر بسنے والی انسانوں اور حیوانوں پر مرتب ہونے والے مضر اثرات سے بچاتی ہے۔ لہذا ہر لمحہ اس کا تحفظ لازمی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…