برلن(نیوز ڈیسک)ایک تازہ تحقیقی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اینٹی بیکٹیریل صابن میں موجود کیمیائی مادے جراثیموں کو مارنے کے اعتبار سے ہاتھ دھونے والے دیگر صابن سے بہتر نہیں ہیں۔ اس تحقیقی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اینٹی بیکٹیریل صابن میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والا کیمیائی مادہ ٹرائکلوزن ہے، جس کو استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد کروڑوں میں ہے اور اس سے بننے والے صابن کی صرف امریکا میں فروخت قریب ایک ارب ڈالر کی ہے۔تاہم اس رپورٹ کے مطابق اس کیمیائی مادے کی وجہ سے اینٹی بائیوٹل مزاحمت اور ہارمونز کی خرابی جیسے معاملات سامنے آ رہے ہیں، جس کے تناظر میں ممکنہ طور پر امریکا کی خوارک اور ادویات کی انتظامیہ FDA اس کے استعمال پر پابندی عائد کر سکتی ہے۔سائنسی جریدے اینٹی مائیکروبیئل کیموتھراپی میں شائع ہونے والی اس تحقیقی رپورٹ کے مطابق ہاتھ چاہے اس کیمیائی مادے کے حامل اینٹی بیکٹریل صابن سے دھوئے جائیں یا عام صابن سے، جراثیموں کے حوالے سے کوئی بڑا فرق نہیں دیکھا گیا۔
ماہرین کے مطابق یہ کیمیائی مادہ صرف اس وقت کارگر ہوتا ہے اگر یہ جراثیم نو گھنٹوں تک اس میں ڈبو دیے جائیں۔محققین کے مطابق چھ گھنٹوں سے کم وقت پر اینٹی بیکٹیریل صابن یا عام صابن کے محلول میں جراثیم رکھے جائیں، تو دونوں محلولوں میں جراثیم کی ہلاکت کے نتائج تقریبا254p ایک سے ہوتے ہیں۔اینٹی بیکٹریل صابن میں استعمال کیے جانے والے ٹرائی کلوزن کی جراثیم کش صلاحیت کے امتحان کے لیے ماہرین نے 20 خطرناک جراثیموں بشمول ایشریشیا کولی، لیسٹیریا مونوکیٹوجینز اور سالمونیلا انٹریٹیڈیس کو مختلف ڈشوں میں عام صابن اور اینٹی بیکٹیریل صابن کے محلولوں میں رکھا۔ اس دوران 20 تا 40 ڈگری سینٹی گریڈ پر درجہ حرارت تبدیل بھی کیا گیا۔ واضح رہے کہ ہاتھ دھونے کے اعتبار سے عالمی ادارہ صحت نے گرم پانی سے 20 سیکنڈ تک ہاتھ دھونے کی ہدایات جاری کر رکھی ہیں اور اس لیے ان محلولوں کے درجہءحرارت میں کم سے زیادہ کی جانب بڑھایا گیا۔اس تحقیق میں جراثیموں کو مختلف بالغ افراد کے ہاتھوں پر بھی لگایا گیا اور ان میں سے کچھ کو ایک ہفتے تک اینٹی بیکٹیریل صابن سے جب کہ کچھ کے عام صابن سے ہاتھ دھلوائے گئے۔ ان افراد سے کہا گیا تھا کہ وہ چالیس ڈگری گرم پانی میں 30 سیکنڈ تک باقاعدگی سے ہاتھ دھوئیں۔ان تجربات کے بعد ماہرین کا کہنا تھا کہ عام صابن اور اینٹی بیکٹیریل صابن جراثیموں کے خاتمے کے اعتبار سے کسی بڑے فرق کے حامل نہیں ہیں۔ ماہرین کے مطابق اینٹی بیکٹریل صابن صرف اس وقت کارگر دیکھے گئے ہیں، جب انہیں نوگھنٹوں سے زائد وقت تک جراثیموں کے خلاف لگے رہنے دیا جائے، جو ظاہر ہے کسی شخص کے لیے ممکن نہیں۔
جراثیم سے تحفظ کے صابن کسی کام کے نہیں، تحقیقی رپورٹ نے بھانڈہ پھوڑ دیا
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
گریٹ گیم
-
ٹرمپ ایران سے معاہدے کیلئے پاکستان آنے کے خواہش مند ہیں مگر انہوں نے ایک شرط بھی رکھی ہے: حامد میر...
-
شین وارن کی موت کے پیچھے کس کا ہاتھ؟ بیٹے نے 4 سال بعد نام بتا دیا
-
لوڈ شیڈنگ کب ختم ہوگی؟ وزیر توانائی نے بتا دیا
-
ایران کا شاہ رخ خان کے مشہور ڈائیلاگ کے ذریعے ٹرمپ کو دلچسپ جواب
-
ایران کے دنیا بھر میں منجمد اثاثوں کی مالیت کیا ہے؟ اہم تفصیلات سامنے آگئیں
-
توانائی کے حوالے سے پاکستان کے لیے بڑی خوشخبری
-
تعلیمی اداروں میں موسم گرما اور موسم سرما کی چھٹیوں میں کمی! طلبا کے لئے بڑی خبر آگئی
-
اسلام آباد،دو گروپس میں مسلح تصادم، دو بھائی جاں بحق
-
اسلحہ لائسنس بنوانے والوں کی بڑی مشکل حل کر دی گئی
-
پیٹرول کوٹہ ؛بڑی پیشرفت سامنے آگئی
-
گرمی کے بعدبارشوں کی پیشگوئی، مختلف اضلاع میں الرٹ جاری
-
اقرار الحسن نے اے آر وائی سے استعفیٰ دے دیا
-
سرکاری ملازمین کے لیے ایک اور ’’ہاؤسنگ کالونی‘‘ منظور، کون ہوگا اہل؟



















































