ہفتہ‬‮ ، 30 مئی‬‮‬‮ 2026 

ہر الرجی کا ری ایکشن ایک جیسا کیوں ؟

datetime 19  مئی‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک )یہ تو ہر شخص ہی جانتا ہے کہ الرجی انسانی جسم کا کسی بھی بیرونی مادے کو دشمن سمجھتے ہوئے قبول نہ کرنے کی صورت میں ظاہر کیا جانے والا ایک ردعمل ہے تاہم اس حقیقت سے بہت کم لوگ واقف ہیں کہ دراصل بیشتر الرجیز کی صورت میں انسانی جسم ایک سا ردعمل ہی کیوں ظاہر کرتا ہے۔ عام طور پر انسانی جسم کسی بھی قسم کی الرجیز کی صورت میں دو طرح کے ردعمل ظاہر کرتا ہے۔ یہ ردعمل یا تو جلد کی بیرونی سطح پر ابھرنے والی سرخی، سوزش وغیرہ کی صورت میں ہوتا ہے یا پھر سانس کی نالی میں رکاوٹ کی صورت میں ہوتا ہے جس کی وجہ سے کھانسی، سانس رکنا یا پھر چھینکوں کا ایک نہ تھمنے والا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔دراصل انسانی جسم میں قوت مدافعت کا نظام بنانے والے خون کے سفید خلیئے کسی بھی دشمن جسم کی مداخلت کو محسوس کرنے پر اینٹی باڈیز پیدا کرتے ہیں۔ یہ اینٹی باڈیز ایسے اجسام سے لڑائی کرتی ہیں جو کہ جسم کیلئے نقصان دہ دکھائی دیں۔ اگلی بار جب انسانی جسم میں ویسے ہی اجسام دوبارہ داخل ہوتے ہیں تو پہلے سے موجود یہ اینٹی باڈیز اس ”دشمن“ کو پہچان لیتی ہیں اور ایک بار پھر ان کا خاتمہ کرڈالتی ہیں۔ یہ ردعمل بالکل ویسا ہی ہوتا ہے جیسا کہ ویکسین کی صورت میں جسم میں پیدا ہوتا ہے جس میں مذکورہ بیماری کے غیر نقصان دہ وائرس داخل کئے جاتے ہیں اور انسانی جسم کو اس قابل بنایا جاتا ہے کہ وہ ان سے لڑنے کیلئے موثر اینٹی باڈیز پیدا کرے اور یوں وائرس سے عمر بھر کیلئے نجات مل جاتی ہے۔ یہ اینٹی باڈیز ناکامی کی صورت میں ماسٹ سیل بھی تیار کرتی ہیں۔ یہ ماسٹ سیل ہڈیوں میں موجود گودے سے تیار ہوتے ہیں۔ ان ماسٹ سیلز میں یہ صلاحیت ہوتی ہے کہ اینٹی باڈیز کا مقابلہ کرنے کیلئے مذکورہ حصے میں جہاں یہ دشمن اجسام موجود ہوں، پھٹ کے اپنا ردعمل ظاہر کریں۔ اگر یہ ردعمل انسانی جلد کے قریب ہوتا ہے تو جلد سرخ پڑنے کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ یہ کیفیت شدید تر ہو تو ایسے میں جلد سوجنے اور پھر اس کے زخم میں تبدیل ہونے کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ اگر دشمن جسم ناک کے راستے سے جسم میں داخلے کی کوشش کررہا ہے تو یہ خلیئے ناک میں پھٹتے ہیں

مزید پڑھیے:ڈاکٹر کے پاس جائے بغیر اپنی آنکھوں کی کمزوری دور کیجئے

اور یوں سانس لینے کے راستے میں جلد ویسے ہی سرخ اور آبلے دار ہونے لگتی ہے۔ اس حصے میں جلد کی خرابی کی وجہ سے سانس لینے میں دشواری، چھینکوں کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ یوں ماسٹ سیل کے ایک ہی طرح سے ردعمل ظاہر کرنے کے سبب ہر قسم کی الرجیز کا ردعمل عام طور پر ایک سا ہی ہوتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میںلکڑی اور لوہے جیسا فرق…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…