اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

چارماہ میں فاٹا میں 45بچے پولیو کا شکارہوئے

datetime 17  مئی‬‮  2015 |

پشاور(نیوزڈیسک)انسدادپولیو کی نگرانی کرنے والے عالمی ادارہ انڈی پینڈنٹ مانیٹرنگ بورڈ (آئی ایم بی)نے وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقہ جات( فاٹا) میں پولیو کے خاتمہ کی کاشوں کی کامیابی کو سراہتے ہوئے اسے فاٹا میں پولیو کے خاتمہ کی جانب اہم پیش رفت قراردیاہے پاکستان میں پولیو کے خاتمہ کے لئے کی جانے والی کوششوں میں پیش رفت کا جائزہ لینے کے لئے ابوظہبی میں منعقد ہ آئی ایم بی کے اہم اجلاس میںپاکستان کے چاروں صوبوں کے ساتھ ساتھ فاٹا میںانسدادپولیوسے متعلق معاملات کو خصوصی طور پرالگ زیر غور لایاگیا اجلاس کوبتایا گیا کہ پولیو کے خاتمہ کے لئے وزیراعظم پاکستان محمدنوازشریف کی جانب سے گذشتہ سال پولیو ایمرجنسی کا نفاذ عمل میں لایا گیا جس کے تحت گورنرخیبر پختونخوا سردار مہتاب احمد خان کی واضح ہدایات پر فاٹا سے پولیو کے خاتمہ کے لئے کی جانے والی کوششوں کے نتیجہ میںآنے والی نمایاں بہتری کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ گذشتہ سال(2014)کے پہلے چار ماہ کے مقابلہ میں سال رواں( 2015) کے پہلے چارمہینوں میں فاٹا میں پولیو کے کیسوں میں 86فیصد کمی آئی ہے2014میں جنوری سے اپریل تک کے چارماہ میں فاٹا میں 45بچے پولیو کا شکارہوئے جبکہ2015کے ان چار مہینوںمیںفاٹا میں پولیوسے متاثرہ بچوں کی تعدادصرف 6رہی ۔اجلاس نے اس امر کو سراہا کہ فاٹا میں پولیو سے بچاﺅ کے قطرے پلانے کے لئے بچوں تک رسائی کے ضمن میں خیبرایجنسی میں 71 فیصد،شمالی وزیرستان میں 50فیصد اور جنوبی وزیرستان ایجنسی میں21فیصدبہتری آئی ہے یوں طویل عرصہ بعد فاٹا انتظامیہ اب جنوبی وزیرستان، ایف آربنوں اور باڑہ خیبر ایجنسی جبکہ شمالی وزیرستان ایجنسی کے بیشتر حصوں میں گھرگھرانسدادپولیومہم چلانے کی پوزیشن میں ہے آئی ایم بی نے اس امر کو فاٹا سے پولیو کو خاتمہ کی جانب اہم پیش رفت قراردیا کہ سال رواں کے دوران فاٹابھر میں چلائی جانے والی انسدادپولیو مہمات کے دوران پولیو ویکسین سے محروم رہ جانے والے بچوں کی تعدادصرف 15ہزار786رہی جو مجموعی ہدف کا 2فیصد سے بھی کم ہے اور اس امر کویقینی بنایا جارہا ہے کہ آنے والی مہمات میں ان بچوں کوبھی پولیو ویکسین کے قطرے پلائے جائیں اسی طرح رواں سال کے پہلے چار ماہ میں فاٹا میں چلائی جانے والی انسداد پولیو مہمات کے دوران بچوں کو پولیوویکسین پلانے سے انکار کے واقعات کی تعداد صرف818رہی جومجموعی تعداد کاصفر اعشاریہ ایک فیصد ہے جبکہ بچوںکوپولیو ویکسین پلانے سے انکار کے ان بچے کچھے واقعات کے محرکات بھی ان قبائل کے مقامی مطالبات تھے ۔فاٹامیں پولیو کے خاتمہ کی کوششوںمیں اس اہم کامیابی اور پیش رفت پرگورنر خیبر پختونخوا سردار مہتاب احمد خان نے فاٹا انتظامیہ کے متعلقہ حکام و اہلکاروں اورخصوصا پولیو ورکرز کو خراج تحسین پیش کیا ہے اورمتعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ فاٹا میں پولیو ورکرز کو ان کے اعزازیہ کی بروقت ادائیگی کے لئے ایک موثرطریقہ کار وضع کیا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…