بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

جنسی جرائم میں جینز کا بہت عمل دخل ہے

datetime 10  اپریل‬‮  2015 |

ایک تحقیق کےمطابق جن افراد کے بھائی جنسی جرائم کے مرتکب ہوتے ہیں ان میں اس طرح کا جرم کرنے کے امکانات پانچ گنا زیادہ ہوتے ہیں۔تحقیق میں کہاگیا ہے کہ جنسی جرائم میں جینز کا اثر کافی زیادہ ہوتا ہے۔سویڈن میں 1973 اور 2009 کے درمیان کی جانے والی اس تحقیق میں 21,566 مردوں کا تجزیہ کیا گیا جن سے جنسی جرائم سرزد ہوئے تھے۔اس تحقیق کے شریک مصنف یونیورسٹی آف آکسفرڈ کے پروفیسر سینا فاضل کہتے ہیں کہ اس تحقیق کے نتائج سے جرم روکنے میں مدد مل سکتی ہے۔یونیورسٹی آف آکسفرڈ اور سویڈن کے کارولنکسا انسٹیٹیوٹ کے تحقیق کاروں کی طرف سے کی گئی اس تحقیق میں جنسی جرائم کے اس تناسب کو دیکھا گیا جو جنسی جرائم میں سزا پانے والوں کے بیٹوں یا بھائیوں نے کیے تھے۔اس کے بعد اس کا موازنہ سویڈن میں اسی عمر اور خاندانی پروفائل رکھنے والی عام آبادی سے کیا گیا۔اس سے یہ سامنے آیا کہ جنسی جرائم میں سزا پانے والے 2.5 فیصد افراد کے بھائی بھی یہ جرم مرتکب کر چکے ہیں۔اس تحقیق میں جنسی جرائم میں سزا پانے والوں کے بیٹوں کے ریکارڈ کو بھی دیکھا گیا جس سے سامنے آیا کہ وہ عام سویڈن کے افراد کی نسبت چارگنا زیادہ اس طرح کے جرائم کے مرتکب ہوتے ہیںماضی میں بھی تحقیقی مقالوں میں خاندانی تعلقات اور جرائم کی رغبت کے تعلق پر روشنی ڈالی گئی ہے۔اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ جب ہم دو طرح کے بھائیوں کے سیٹ کا تجزیہ کرتے ہیں جن کا خاندانی پس منظر ایک جیسا ہوتا ہے تو اس میں ایک سیٹ میں جنسی جرائم سرزد کرنے کا خدشہ کیوں زیاہ ہوتا ہےپروفیسر فاضل ایک تحقیق میں کہا گیا کہ پرتشدد جرائم کرنے والے مردوں کے بچے بھی عام بچوں کی نسبت 3.5 گنا زیادہ ایسا جرم کر سکتے ہیں۔پروفیسر فاضل نے کہا کہ حالیہ تحقیق میں ہم نے دیکھا ہے کہ جنسی جرائم میں ملوث ہونے کا کتنا زیادہ اثر پڑتا ہے۔اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ جب ہم دو طرح کے بھائیوں کے سیٹ کا تجزیہ کرتے ہیں جن کا خاندانی پس منظر ایک جیسا ہوتا ہے تو اس میں ایک سیٹ میں جنسی جرائم سرزد کرنے کا خدشہ کیوں زیاہ ہوتا ہے۔‘انھوں نے کہا کہ اس سے تجزیے سے حکام ممکنہ مجرموں کو پکڑ سکتے ہیں۔انھوں نے مزید کہا کہ آج جب ان افراد کا مشاہدہ کیا جاتا ہے جن میں جنسی جرائم مرتکب کرنے کے امکانات زیادہ ہیں تو جینز کے اثرات کو عموماً نظر انداز کیا جاتا ہے۔انھوں نے ریڈیو 4 کے ٹوڈے پروگرام کو بتایا کہ اگرچہ کسی بھی انسان کا ماحول اس کے جنسی جرائم مرتکب کرنے پر اثر انداز ہوتا ہے لیکن اس کی جینز کا بھی اس خطرے میں 30 سے 50 فیصد تک ہاتھ ہوتا ہے۔لیکن تحقیق کے مصنفین نے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ اگر کسی کے بھائی یا باپ نے ریپ کیا ہے تو وہ بھی جنسی جرم کرے گا۔کارولنسکا انسٹیٹیوٹ کے پروفیسر نکلاس لینگسٹروم کہتے ہیں کہ ’یہ ذہن نشین کرنا بہت ضروری ہے کہ اس میں کچھ بھی عارفانہ نہیں۔‘لوگ اس بات پر پریشان ہو جاتے ہیں کہ مشکل انسانی رویے میں جینز کا بہت زیادہ حصہ ہوتا ہے۔‘یقیناً، آپ کسی خودکار روبوٹ کی طرح وراثت میں چیزیں نہیں لیتے کہ آپ بڑے ہو کر جنسی مجرم بن جائیں گے۔‘

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…