ایک تحقیق کےمطابق جن افراد کے بھائی جنسی جرائم کے مرتکب ہوتے ہیں ان میں اس طرح کا جرم کرنے کے امکانات پانچ گنا زیادہ ہوتے ہیں۔تحقیق میں کہاگیا ہے کہ جنسی جرائم میں جینز کا اثر کافی زیادہ ہوتا ہے۔سویڈن میں 1973 اور 2009 کے درمیان کی جانے والی اس تحقیق میں 21,566 مردوں کا تجزیہ کیا گیا جن سے جنسی جرائم سرزد ہوئے تھے۔اس تحقیق کے شریک مصنف یونیورسٹی آف آکسفرڈ کے پروفیسر سینا فاضل کہتے ہیں کہ اس تحقیق کے نتائج سے جرم روکنے میں مدد مل سکتی ہے۔یونیورسٹی آف آکسفرڈ اور سویڈن کے کارولنکسا انسٹیٹیوٹ کے تحقیق کاروں کی طرف سے کی گئی اس تحقیق میں جنسی جرائم کے اس تناسب کو دیکھا گیا جو جنسی جرائم میں سزا پانے والوں کے بیٹوں یا بھائیوں نے کیے تھے۔اس کے بعد اس کا موازنہ سویڈن میں اسی عمر اور خاندانی پروفائل رکھنے والی عام آبادی سے کیا گیا۔اس سے یہ سامنے آیا کہ جنسی جرائم میں سزا پانے والے 2.5 فیصد افراد کے بھائی بھی یہ جرم مرتکب کر چکے ہیں۔اس تحقیق میں جنسی جرائم میں سزا پانے والوں کے بیٹوں کے ریکارڈ کو بھی دیکھا گیا جس سے سامنے آیا کہ وہ عام سویڈن کے افراد کی نسبت چارگنا زیادہ اس طرح کے جرائم کے مرتکب ہوتے ہیںماضی میں بھی تحقیقی مقالوں میں خاندانی تعلقات اور جرائم کی رغبت کے تعلق پر روشنی ڈالی گئی ہے۔اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ جب ہم دو طرح کے بھائیوں کے سیٹ کا تجزیہ کرتے ہیں جن کا خاندانی پس منظر ایک جیسا ہوتا ہے تو اس میں ایک سیٹ میں جنسی جرائم سرزد کرنے کا خدشہ کیوں زیاہ ہوتا ہےپروفیسر فاضل ایک تحقیق میں کہا گیا کہ پرتشدد جرائم کرنے والے مردوں کے بچے بھی عام بچوں کی نسبت 3.5 گنا زیادہ ایسا جرم کر سکتے ہیں۔پروفیسر فاضل نے کہا کہ حالیہ تحقیق میں ہم نے دیکھا ہے کہ جنسی جرائم میں ملوث ہونے کا کتنا زیادہ اثر پڑتا ہے۔اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ جب ہم دو طرح کے بھائیوں کے سیٹ کا تجزیہ کرتے ہیں جن کا خاندانی پس منظر ایک جیسا ہوتا ہے تو اس میں ایک سیٹ میں جنسی جرائم سرزد کرنے کا خدشہ کیوں زیاہ ہوتا ہے۔‘انھوں نے کہا کہ اس سے تجزیے سے حکام ممکنہ مجرموں کو پکڑ سکتے ہیں۔انھوں نے مزید کہا کہ آج جب ان افراد کا مشاہدہ کیا جاتا ہے جن میں جنسی جرائم مرتکب کرنے کے امکانات زیادہ ہیں تو جینز کے اثرات کو عموماً نظر انداز کیا جاتا ہے۔انھوں نے ریڈیو 4 کے ٹوڈے پروگرام کو بتایا کہ اگرچہ کسی بھی انسان کا ماحول اس کے جنسی جرائم مرتکب کرنے پر اثر انداز ہوتا ہے لیکن اس کی جینز کا بھی اس خطرے میں 30 سے 50 فیصد تک ہاتھ ہوتا ہے۔لیکن تحقیق کے مصنفین نے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ اگر کسی کے بھائی یا باپ نے ریپ کیا ہے تو وہ بھی جنسی جرم کرے گا۔کارولنسکا انسٹیٹیوٹ کے پروفیسر نکلاس لینگسٹروم کہتے ہیں کہ ’یہ ذہن نشین کرنا بہت ضروری ہے کہ اس میں کچھ بھی عارفانہ نہیں۔‘لوگ اس بات پر پریشان ہو جاتے ہیں کہ مشکل انسانی رویے میں جینز کا بہت زیادہ حصہ ہوتا ہے۔‘یقیناً، آپ کسی خودکار روبوٹ کی طرح وراثت میں چیزیں نہیں لیتے کہ آپ بڑے ہو کر جنسی مجرم بن جائیں گے۔‘
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
مہاراجہ ہری سنگھ کے جواہرات
-
1 کروڑ تک لون پر زیرو مارک اپ کا اعلان
-
پٹرولیم قیمتوں میں تبدیلی کا طریقہ بدلنے کی تیاری، اہم خبر آگئی
-
نوبیاہتا دلہن ہوٹل کے کمرے کے دروازے پر گری اور دم توڑ گئی، ویڈیو وائرل
-
بینکوں میں نقد لین دین کی حد مقرر
-
زلزلے کے جھٹکے،عوام میں خوف و ہراس پھیل گیا
-
سونے کی قیمتوں میں یکدم بڑا اضافہ، فی تولہ قیمت کتنی ہوگئی؟
-
زہریلی کھیر کھانے سے تین سگے بھائی جاں بحق، والدین کی حالت تشویشناک
-
ای پاسپورٹ کے لیے ’’نام‘‘ سے متعلق ’’مخصوص شرائط‘‘ عائد
-
24 میں سے صرف 8 گھنٹے گیس فراہمی کا پلان ! صارفین کے لیے اہم خبر آگئی
-
آسان اقساط میں اسمارٹ فونز دینے کی پالیسی! عوام کے لیے بڑی خوشخبری آگئی
-
تین سالہ بچے کی فٹبال مہارت تنازع بن گئی، لیگ انتظامیہ نے پولیس بلا لی
-
عامر لیاقت نازیبا ویڈیو؛ ملزمہ دانیہ شاہ حاملہ ہے، وکیل کی درخواست پر گرفتاری کا حکم واپس
-
حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کردیا



















































