منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

تیل کے بحران نے پشاور کو بھی لپیٹ میں لے لیا

datetime 20  جنوری‬‮  2015 |

پشاور ۔۔۔۔پنجاب سے شروع ہونے والے تیل کے بحران نے پشاور کو بھی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ شہرکے زیادہ تر پیٹرول پمپ بند ہیں۔ پی ایس او زرائع کہتے ہیں کہ تیل کی کوئی قلت نہیں ، ڈپو سے کنٹرول سیل کی جارہی ہے۔پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم ہونے سے عوام نے سکھ کا سانس لیا تھا مگر تیل نایاب ہونے سے یہ خوشی بھی کافور ہوگئی۔ پشاور کے زیادہ ترپیٹرول پمپوں کے باہر’ تیل ختم‘ کے نوٹسز لگا دیئے گئے۔ پیٹرول پمپ والے کہتے ہیں کہ پیسے جمع کرائے ہیں لیکن تاحال تیل نہیں ملا۔پی ایس او ذرائع کے مطابق پشاورڈویڑن میں تیل کی قلت نہیں، 28 لاکھ لیٹر تیل پشاورپہنچ رہا ہے۔ تیل کی بلیک مارکیٹنگ سے بچنیکے لئے پشاورمیں پیٹرول کی کنٹرول سیل کی جارہی ہے۔ یونیورسٹی روڈ کے چند سرکاری پمپوں پر تیل کی فروخت جاری ہے جبکہ رنگ روڈ پر بہت سے پمپ بند ہیں۔ تیل کی عدم دستیابی کے باعث عوام کو مشکلات کا سامنا ہے۔پی ایس او ذرائع کے مطابق پشاورڈویڑن میں تیل کی قلت نہیں، 28 لاکھ لیٹر تیل پشاورپہنچ رہا ہے۔ تیل کی بلیک مارکیٹنگ سے بچنیکے لئے پشاورمیں پیٹرول کی کنٹرول سیل کی جارہی ہے۔ یونیورسٹی روڈ کے چند سرکاری پمپوں پر تیل کی فروخت جاری ہے۔ جبکہ رنگ روڈ پر بہت سے پمپ بند ہیں، تیل کی عدم دستیابی کے باعث عوام کو مشکلات کا سامنا ہے۔تیل ڈپو ذرائع کے مطابق ہزار لیٹر تیل فروخت کرنیوالے اب 10 ہزار لیٹرز کا مطالبہ کررہے ہیں،کوٹے سے زیادہ لیٹر نہیں دے رہے۔ تیل کی قلت کے باوجود پبلک ٹرانسپورٹ متاثر نہیں ہوئی۔ کیونکہ پشاور میں سی این جی کی سپلائی بلا تعطل 24 گھنٹے جاری ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…