منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

اسحاق ڈارکو حکومت کے خلاف سازش کرنے والوں کی تلاش

datetime 19  جنوری‬‮  2015 |

اسلام آباد۔۔۔۔وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ پیٹرول کا بحران حکومت کے خلاف سازش ہے جس کا پتہ لگنا چاہیے۔اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران وفاقی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ پیٹرول بحران پر کی جانے والی باتیں بے بنیاد اور جھوٹی ہیں، وزارت پانی و بجلی کے واجبات کی ادائیگی ہماری پہلی ترجیح ہے، وزارت خزانہ تیل کی خریداری کی ذمہ دار نہیں، پی ایس او کی نادہنگی کی ذمہ داری بھی وزارت خزانہ پر نہیں ڈالی جاسکتی۔ پٹرولیم بحران میں رقم کی فراہمی کا کوئی معاملہ نہیں، وزارت خزانہ پی ایس او کا ایک روپے کی بھی مقروض نہیں۔ وہ مانتے ہیں کہ کسی بھی شعبے میں کوئی غفلت یا بدانتظامی کا ذمہ دار اس کا براہ راست اس کا سربراہ ہوتاہے۔ پیٹرول کے بحران میں بدانتظامی ہوئی ہے، تیل کی کمپنیوں نے تیل کا ذخیرہ نہیں رکھا، جن اداروں نے ذمہ داری پوری نہیں کی ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ تیل کے بحران پر وزیراعظم اس معاملے کررہے ہیں۔ وزیر پیٹرولیم اس بحران سے متعلق تمام ریکارڈ جمع کررہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ اس بحران کے ذریعے حکومت کے خلاف گہری سازش ہوئی ہے۔ جس کا جلد از جلد پتہ لگانا چاہیے۔اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ اس وقت بجلی کی مد میں قوم کو 480 ارب روپے کی سبسڈی دی جارہی ہے۔ ہمیں اپنے خسارے پر قابو پانا ہوگا۔ ہمیں ترقیاتی منصوبے ختم کرکے سبسڈی دینے کی روش کو ختم کرنا ہوگا۔ بجلی کے سرکلر ڈیٹ کی مد میں دی جانے والی تمام رقم کا ریکارڈ موجود ہے اور اس کا آڈٹ بھی ہوچکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جہانگیر ترین کی جانب سے لکھا گیا خط انہیں جاپان میں ملا ہے، تحریک انصاف کے رہنما حقائق پر مبنی بات کریں گے تو ہمیں جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کا کوئی مسئلہ نہیں لیکن آئین اور قانون سے باہر کسی بات کو قبول نہیں کیا جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…