منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

ایک فیصد امیر لوگوں کے پاس دنیا کے بقیہ 99 فیصد لوگوں سے زیادہ اثاثے ہیں

datetime 19  جنوری‬‮  2015 |

لندن۔۔۔۔عالمی فلاحی ادارے آکسفیم کا کہنا ہے کہ دنیا کے ایک فیصد امیر لوگوں کے پاس آئندہ برس تک دنیا کے بقیہ 99 فیصد لوگوں سے زیادہ اثاثے ہوں گے۔اس ہفتے سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں ہونے والے عالمی معاشی فورم کے اجلاس سے قبل یہ بات سامنے آئی ہے اور فلاحی ادارے نے امیر اور غریب کے درمیان بڑھتے عدم مساوات کی جانب توجہ مبذول کرائی ہے۔ادارے کی جانب سے کی جانے والی ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ عالمی سطح پر ایک فیصد امیر لوگوں کی املاک میں سنہ 2009 میں 44 فیصد اضافہ ہوا تھا جو کہ گذشتہ سال بڑھ کر 48 فیصد ہو گ?ا یعنی کہ ہر ایک کے لیے اوسطا 27 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا۔اس رپورٹ میں یہ کہا گیا ہے کہ دنیا کی 80 فیصد آبادی کے پاس دنیا کی دولت کا صرف ساڑھے پانچ فیصد حصہ ہے۔ایک بے گھر کے سامنے سے ایک تاجر کو گزرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے
آکسفیم انٹرنیشنل کے ا گزیکٹیو ڈائرکٹر وینی باینییما نے کہا: ’کیا واقعی ہم ایسی دنیا میں رہنا چاہیں گے جہاں ایک فیصد لوگوں کے پاس باقی تمام سے مجموعی طور پر زیادہ ہو؟ عالمی سطح پر عدم مساوات ہے اور اسے عالمی ایجنڈا بنانے کے بجائے امیر اور غریب کے درمیان کی خلیج تیزی سے بڑھ رہی ہے۔‘انھوں نے مزید کہا کہ ’گذشتہ 12 مہینوں سے صدر اوباما سے لے کر کرسٹین لیگارڈے امیر اور غریب کے درمیان عدم مساوات کے مسئلے سے نمٹنے کی بات کر رہے ہیں تاہم ہم ابھی تک اس جانب کوئی پیش رفت نہیں دیکھ رہے ہیں۔امیر اور غریب کے درمیان روز افزوں خلیج پر توجہ مبذول کرانے کے لیے یہ رپورٹ منظر عام پر آئی ہے
’یہی وقت ہے کہ ہمارے رہنما بااقتدار لوگوں کے مفادات پر قدغن لگائیں جو کہ زیادہ منصفانہ اور زیادہ خوشحال دنیا کے درمیان کھڑے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ’امرا طبقے کے لیے تجارت ابھی بھی مفت نہیں ہے اور عدم مساوات کو کم کرنے میں ناکامی غریبی کے خلاف جنگ کو کئی دہائی پیچھے لے جائے گی۔ اور عدم مساوات میں اضافے کے نتیجے میں غریب دوہرے طور پر متاثر ہوں گے۔ ایک یہ کہ انھیں معاشی لڈو میں کم حصہ ملے گا اور اس سے ترقی کو نقصان پہنچے گا جس کا مطلب یہ ہے کہ بانٹنے کے لیے لڈو ہی کم ہوں گے۔‘

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…