منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

کیا مریخ پر بھی معجزے ہوتے ہیں؟ کلک کریں اور پڑھیں ایک انوکھا واقعہ

datetime 16  جنوری‬‮  2015 |

لندن: سرخ سیارے مریخ  کی سطح پر 11 سال قبل معلومات حاصل کرنے کے لیے بھیجا جانے والا خلائی روبوٹ معلومات تو کیا حاصل کرتا خود ہی غائب ہوگیا اور اب اچانک مل گیا ہے جس سے کئی سالوں سے جاری اس کی کھوج کامیاب ہوگئی ہے۔

برطانیہ کے خلائی مشن پر جانے والے تحقیقاتی روبوٹ ’ بیگل‘ کو سرخ سیارے مریخ پر اترنا تھا لیکن جیسے ہی اس نے مریخ پر قدم رکھا وہ زمین پر موجود ریڈار سے غائب ہوگیا جس نے خلائی سائنسدانوں کو حیران اور پریشان کردیا اوروہ بیگل کے پراسرار طور پر غائب ہونے کی وجہ کی تلاش میں لگ گئے اور اس کوشش میں انہیں 11 سال کا عرصہ گزر گیا لیکن پتہ نہ چل سکا کہ بیگل کہاں گیا کیونکہ بے چارے سائنسدان  خلا میں غائب ہونے والے روبوٹ کے بارے میں یہ بھی نہیں کہہ سکتے تھے کہ اسے آسمان کھا گیا کہ زمین نگل گئی، اوریہ مسئلہ اس وقت حل ہوگیا جب ناسا کے ہائی ریزولیشن سے لی گئی تصاویر نے راز افشاں کیا کہ لینڈر مریخ  ہی کی سطح پر موجود ہے لیکن چونکہ اس کا نظام پوری طرح نہ کھل سکا تھا اس لیے وہ ریڈار سے غائب ہوگیا۔

یورپین اسپیس ایجنسی کے مطابق 25 دسمبر 2003 میں مارس ایکسپریس کے ذریعے خلائی روبوٹ کو مریخ کی سطح پر اتارا گیا تھا لیکن اس کے سولر پینل پوری طرح نہیں کھل سکے جس کے باعث اس پر لگا انٹینا اپنا کام نہ کرسکا اور بیگل کو توانائی ہی نہ مل سکی جو اس کے سسٹم کو حرکت دیتی اوراس کا زمین سے رابطہ قائم ہو سکتا۔

بیگل کو تیار کرنے والی ٹیم کے ممبر مارک سمس کا کہنا ہے کہ اگرچہ بیگل کی نشان دہی ہوگئی ہے لیکن ابھی تک یہ واضح نہیں کہ ایسا کیوں ہوا کہ بیگل کے سولر پینل نہیں کھل سکے تاہم ہوسکتا ہے کہ ہائی ولاسٹی کی وجہ سے بیگل سطح سے زیادہ زور دار دھماکے سے ٹکرا گیا ہوگا جس کی وجہ سے سولر پینل نہ کھل سکے۔ یورپین خلائی ایجنسی کے مطابق 2 میٹر لمبے بیگل کی سب سے پہلے نشان دہی مائیکل کرون ٹائر نے کی  اور یوں کئی سال سے سائنسدانوں کو پریشان کردینا والا پراسرار مسئلہ حل ہوگیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…