جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت میں عورتوں سے جانوروں سے بھی بد تر سلوک

datetime 4  دسمبر‬‮  2014 |

نئی دہلی۔۔۔۔حقوقِ انسانی کے لیے کام کرنے والی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ بھارت میں معذور خواتین اور لڑکیوں کو ذہنی معذوروں کے اداروں میں زبردستی داخل کروایا جاتا ہے جہاں ان کے ساتھ جانوروں سے بھی بدتر سلوک کیا جاتا ہے۔ایچ آر ڈبلیو کا کہنا ہے کہ یہ خواتین گندے ماحول میں رہتی ہیں اور انھیں ہر وقت جسمانی اور جنسی تشدد کا خطرہ رہتا ہے۔ایچ آر ڈبلیو نے بھارتی حکومت سے درخواست کی ہے کہ وہ خواتین کی ریاستی اور نجی سہولیات کا معائنہ کرے۔بی بی سی کے مطابق حکومت نے اب تک اس رپورٹ کے نتائج کے بارے میں کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے کیونکہ اپنی پالیسی کے طور پرحکومت ایسی رپورٹوں کا جواب نہیں دیتی۔رپورٹ میں دسمبر سنہ 2012 سے لے کر سنہ 2014 نومبر تک بھارت کے چھ شہروں میں قائم معذور خواتین اور لڑکیوں کی زندگی کی تفصیل پیش کی گئی۔اس رپورٹ کا نام ’جانوروں سے بھی بدتر سلوک‘ ہے اور یہ 52 خواتین اور لڑکیوں کے انٹرویوز پر مبنی ہے جو ذہنی معذوروں کے ان اداروں میں رہ چکی ہیں یا رہتی ہیں۔میرا سکول میں بھی رونے کا دل کرتا ہے۔ میں اس جگہ کو چھوڑنا چاہتی ہوں۔ان کے ساتھ ساتھ 150 ڈاکٹر اور خاندانوں سے بھی بات کی گئی تھی۔
رپورٹ کے مطابق،گنجائش سے زیادہ خواتین کو ریاستی اداروں میں پھینک دیا جاتا ہے جو بنیادی سہولیات سے محروم ہیں اور جہاں ذہنی طور پر بیمار اور معذور لوگوں کا مذاق اڑایا جاتا ہے، انھیں ڈرایا دھمکایا جاتا ہے اور بدنام کیا جاتا ہے۔رپورٹ کی مصنف کریتی شرما کا کہنا ہے کہ: ’ایک دفعہ ان لوگوں کو اندر بند کر دیا جاتا ہے تو ان کی زندگی اکثر تنہائی اور خوف میں گزرتی ہے اور ان کے پاس اس سے نکلنے کا بھی کوئی راستہ نہیں ہوتا۔‘بھارت میں معذور خواتین اور مردوں کی دیکھ بھال اکثر لاپرواہی سے کی جاتی ہے لیکن خواتین پر تشدد ہونے کے امکان زیادہ ہوتے ہیں۔رپورٹ میں ایک 11 برس کی بچی کا کہنا تھا کہ جس ادارے میں وہ رہتی تھی وہاں اسے تشدد کا نشانہ بنایا جاتا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ: ’مجھے سکول لے جانے والی آنٹی مجھے مارتی ہیں۔ وہ مجھے اس ادارے میں بھی مارتی ہیں اور مجھے زور سے تھپڑ مارتی ہیں۔ جب وہ مجھے مارتی ہیں تو میرا رونے کو دل چاہتا ہے اور میں اداس ہو جاتی ہوں۔ مجھے سکول میں بھی رونا آتا ہے۔ میں اس جگہ کو چھوڑنا چاہتی ہوں۔‘

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…