جمعہ‬‮ ، 23 جنوری‬‮ 2026 

بس نواز شریف کے بولنے کی دیر ہے

datetime 13  اکتوبر‬‮  2014 |

پاکستان کے ازلی دشمن نے ایک بار پھر لائن آف کنٹرول پر جو محاز کھولا اس کے پس منظر میں بہت سے مقاصد کا ر فرما ہیں اور وہ اس نئی محاز آرائی سے بھارت تمام مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے۔ اس حوالے سے وزیراعظم نواز شریف تنے ہوئے رسے پر چل رہے ہیں۔ بھارت نے ہمیشہ پاکستان کے اندورنی مسائل سے فائدہ اٹھایا اس وقت بھی یہی صورتحال ہے۔ پاکستان میں اس وقت آپریشن ضرب عضب جاری ہے۔ اور پاک فوج نے اس میں کامیابی کی نئی مثال قائم کر کے شمالی وزیرستان دہشت گردوں کے اکثر ٹھکانے تہس نہس کر کے یا تو ان کو ختم کر دیا ہے۔ یا وہاں سے نکل بھاگنے پر مجبور کر دیا ہے۔ ان دہشت گردوں کو بھارت کی ہمیشہ سے حمایت حاصل رہی ہے۔ ان کے خاتمے سے بھارت کو پریشانی لاحق ہوئی اور اس نے لائن آف کنٹرول پر نیا محاز کھول دیا۔ کیونکہ بھارت تو پاکستان کی ترقی ایک آنکھ نہیں بہاتی ۔ اگر یہاں جمہوریت فروغ پائے گی تو امن قائم ہوگا۔ امن ہو گا تو سرمایہ داری ہو گی اور پاکستان ترقی کی شاہراہ پر چل پڑے گا۔ نریندرمودی برداشت نہیں کر سکتے ان کا ماضی پاکستان دشمنی سے بھرا پڑا ہے۔ وہ نواز شریف کی حکومت کے لیے مسائل پیدا کر کے پاکستان کی ترقی روکنا چاہتا ہے۔ انکی کوشش ہے کہ وہ لڑائی کا ماحول پیداکریں۔ وزیراعظم نواز شریف فوج کو جنگ میں لائیں ۔ دوسری صورت میں اگر وہ فوج کو بھارت کے خلاف جوابی کاروائی کی بھرپور حمایت نہیں کرتے تو فوج وزیراعظم نواز شریف سے ناراض ہو جائے گی۔ جس سے ان کی حکومت جا سکتی ہے۔ ایسی صورتحال میں پاکستان میں عدم استحکام پیدا ہو گا۔ دھرنے بھی اسی سلسلہ کی کڑی تھے۔ اب امکان ہے کہ ان کی شدت میں اضافہ ہو گاجس سے نواز شریف کیلئے مسائل بڑھ سکتے ہیں۔ اب تک وزیر اعظم نواز شریف نے ان سب معاملات پر احتیاط برتی ہے۔ وہ اکسانے کے باوجود بہت کم بولنے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ان کی خاموشی سے ان کے مسائل کم ہو سکتے ہیں۔ اگر انہوں نے زبان کھولی تو شاید معاملات ان کے کنٹرول میں نہ رہیں۔

موضوعات:



کالم



تہران میں کیا دیکھا(دوم)


مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…