پیر‬‮ ، 31 اگست‬‮ 2026 

حمیرا اصغر کی موت،پراسرار حالات، قتل کا شبہ، جعلی شکایت اور خاندان میں اختلافات معاملہ مزید الجھ گیا، موت کئی سوالات چھوڑ گئی

datetime 12  جولائی  2025 |

کراچی(این این آئی)پاکستانی ماڈل و اداکارہ حمیرا اصغر کی پر اسرار موت کا معمہ حل ہونے کے بجائے مزید پیچیدہ ہوتا جا رہا ہے۔ کراچی کے علاقے ڈیفنس میں واقع ایک فلیٹ سے ملنے والی ان کی لاش کئی ماہ پرانی تھی، جبکہ اس معاملے میں قتل کا شبہ، خاندانی اختلافات، جعلی شکایت اور تکنیکی تحقیقات کی نئی پرتیں سامنے آ رہی ہیں۔پولیس کے مطابق اداکارہ کی لاش رواں ماہ اس وقت برآمد ہوئی جب ایک عدالتی حکم پر مکان مالک کی شکایت پر فلیٹ کو خالی کروانے کے لیے کارروائی کی گئی۔ فلیٹ کا دروازہ کھٹکھٹانے پر کوئی جواب نہ ملا تو پولیس نے دروازہ توڑ کر اندر داخل ہو کر لاش دریافت کی۔ڈی آئی جی سائوتھ سید اسد رضا کے مطابق لاش اس قدر گل سڑ چکی تھی کہ شناخت اور موت کی فوری وجہ جاننا ممکن نہ تھا۔

ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اداکارہ کی موت 8 سے 10 ماہ قبل ہوئی، جسم کی کوئی ہڈی ٹوٹی ہوئی نہیں تھی، تاہم لاش ڈی کمپوزیشن کے آخری مراحل میں داخل تھی۔ مزید کیمیائی تجزیے کے لیے نمونے بھیجے جا چکے ہیں۔اداکارہ کے بھائی نے حمیرا اصغر کے قتل کا شبہ ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ممکن ہے فلیٹ کی دو چابیاں ہوں، اور یہ بھی کہ موت کے پیچھے کوئی سازش ہو سکتی ہے۔ خاندان کی خاموشی اور دس ماہ تک رابطہ نہ ہونے پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔اداکارہ کے چچا محمد علی نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ ہم سے دس ماہ تک رابطہ نہیں ہو پایا۔ پولیس کو گمشدگی کی رپورٹ نہیں دی گئی، کیونکہ ہمیں علم ہی نہیں تھا کہ وہ کراچی میں کہاں رہتی تھیں۔ صرف ایک موبائل نمبر تھا، وہ بھی بند ہو چکا تھا۔چچا کے مطابق حمیرا اصغر ہر چند ماہ بعد لاہور آتی تھیں، خاندان سے کوئی جائیداد کا جھگڑا یا ناراضی نہیں تھی۔ ان کے والد پیشے سے ڈاکٹر ہیں اور یہ چار بہن بھائی ہیں۔اداکارہ کے والد نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ، جو کچھ میری بیٹی کے ساتھ ہوا، اس کا حساب اللہ لے گا۔ میت نہ لینے سے متعلق تمام خبریں جھوٹ پر مبنی ہیں۔ میڈیکل پراسیس مکمل ہوئے بغیر لاش وصول کرنا ممکن ہی نہیں تھا۔

ذرائع کے مطابق حمیرا اصغر نے اگست 2024 میں وفاقی تحقیقاتی اداروں سے رابطہ کیا تھا اور فون ہیک ہونے کے ساتھ ساتھ ملنے والی دھمکیوں سے آگاہ کیا تھا۔ تاہم انہوں نے اس بارے میں کسی بھی ادارے کو تحریری درخواست نہیں دی، جس کے باعث باضابطہ تحقیقات مکمل نہ ہو سکیں۔اداکارہ کی موت کے بعد ایک شہری شاہزیب سہیل نے واقعے کو قتل قرار دے کر مقدمہ درج کرنے کی درخواست دی۔ تاہم پولیس نے تحقیقات میں انکشاف کیا کہ یہ درخواست جعلی سم کے ذریعے دی گئی تھی۔ مذکورہ نمبر ایک دیہاتی ہندو خاتون گومی کے نام پر رجسٹرڈ تھا، جو اس شکایت سے لاعلم تھیں۔پولیس حکام کے مطابق اب تک قتل کے الزامات سے متعلق کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ملا، تاہم تحقیقات تمام پہلوئوں سے جاری ہیں۔ پولیس نے مزید کہاکہ اداکارہ کے بھائی کا ڈی این اے سیمپل اور دیگر فرانزک شواہد کی مدد سے کیس کو آگے بڑھایا جائے گا۔اداکارہ حمیرا اصغر کی موت کئی سوالات چھوڑ گئی ہے۔ پولیس حکام کے مطابق حتمی رپورٹ آنے تک کوئی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا، تاہم ہر پہلو پر تفتیش جاری ہے۔ایک باصلاحیت اداکارہ کی یوں خاموشی سے رخصتی نے میڈیا، عوام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ایک تلخ سوالیہ نشان میں مبتلا کر دیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…