جمعرات‬‮ ، 15 جنوری‬‮ 2026 

لڑکی کو سرعام ڈانٹنے،مارنے پر کوئی متوجہ نہیں ہوتا لیکن پیار سے گلے لگانابہت بڑا جرم ہے، شہزاد رائے سرعام پرپوز کرنے والے طلباء کی حمایت میں بول پڑے

datetime 14  مارچ‬‮  2021 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک )چند روز قبل سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں ایک لڑکا لڑکی کو یونیورسٹی میں ایک دوسرے کو پرپوز کرتے دیکھا جا سکتا ہے،دونوں ایک دوسرے کو پھول پیش کرتے ہیں اور گلے ملتے ہیں۔اس حوالے سے پاکستانی معروف گلوکار دونوں کی حمایت میں میدان میں آگئے ، سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر انکا کہنا تھاکہ ’’ لڑکی کو

سرعام ڈانٹنے اور مارنے پر کوئی متوجہ نہیں ہوتا ، پر پیار سے گلے لگانا بہت بڑا جرم ہے ۔ واضح رہے کہ نجی یونیورسٹی کے طلباء کی ویڈیو سوشل میڈیا پر آنے کی دیر تھی کہ لوگوں کی جانب سے سخت تنقید دیکھنے میں آئی۔یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے ایکشن لیا گیا۔یونیورسٹی انتظامیہ نے سرعام ایک دوسرے سے محبت کا اظہار کرنے پر دونوں کو یونیورسٹی سے نکال دیا اور یونیورسٹی کی حدود میں دوبارہ داخل ہونے پر پابندی لگا دی گئی۔ نجی یونیورسٹی سے برخاست ہونے والے نوجوان طلبا نے معاملے پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے،میڈیا کے رابطہ کرنے پر بھی کوئی خاص جواب نہیں دے رہے ،لگتا ہے کہ دونوں میڈیا پر آنے سے بھی کترا رہے ہیں۔بظاہر اپنے ٹویٹر اکائونٹس میں دونوں نے اپنی بائیو میں ایک دوسرے کو مینشن کر رکھا ہے اور ٹویٹس میں کہا ہے کہ انہوں نے کچھ غلط نہیں کیا۔حدیقہ جاوید نامی لڑکی کا کہنا ہے کہ ہم نے کچھ غلط نہیں کیا اور نہ ہی ہم اس کے لیے معافی مانگیں گے۔مجھے اپنی سپورٹ میں کافی پیغام مل رہے ہیں جب کہ مخالفت میں بھی کئی پیغام ملے ہیں۔جب کہ شہریار احمد نامی نوجوان نے کہا کہ کیا ہمیں کوئی بتا سکتا ہے کہ پبلک میں ایک دوسرے سے محبت کا اظہار کر کے ہم نے کیا غلط کیا ہے؟ ماضی میں بھی کئی طلبا نے ایسا کیا لیکن پھر ہمیں ہی خاص طور پر ٹارگٹ کیوں کیا جا رہا ؟ ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ونڈر بوائے


یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…